بدھ، 23 اکتوبر، 2013

بزم اردو پر خصوصی رپورٹ: از: نوید رزاق بٹ


نئے سلسلے 'طنز و مزاح' کے حوالے سے 'بزم نامہ' کا ایک شمارہ پیشِ خدمت ہے اس درخواست کے ساتھ کہ یہاں کسی کی تضحیک مقصود نہیں، اور تحریر کو خیالی ہی سمجھا جائے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بزمِ اردو" پر خصوصی رپورٹ..... بذریعہ نمائندہءِ خصوصی
ناظرین یہ ہے بزمِ اردو انسٹیوٹ برائے ایڈوانسمنٹ آف ساڈی اردو ڈاڈی اردو۔ یہاں کچی پکی سے لے کر شعبہءِ اقبالیات تک سب کچھ موجود ہے۔ داخلہ مفت اور آسان ہے۔ نکلنا مہنگا اور مشکل۔ آتے کو اتنا ویلکم کیا جاتا ہے کہ وہ ڈر کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے کہ کہیں‌ ادھار نہ مانگ بیٹھیں۔ جاتے کو اتنا یاد کیا جاتا ہے کہ پڑھنے والے سمجھتے ہیں‌ شاید ادھار لے کر بھاگا ہے۔ اساتذہ اور طلبہ میں مکمل ہم آہنگی ہے، دونوں کو تعلیم سے کوئی شغف نہیں۔ اپنی تصویر لگانا ضروری ہے، تا کہ لوگ آپ کو دیکھ کر ذاتی پیغام کرنے کی تکلیف نہ کریں۔ لُوز بال پر چھکا ضرور پڑتا ہے اور لوز بالوں پر قصیدہ۔ پڑھنے والے کم ہیں اور لکھنے والے زیادہ۔ اس لئے پڑھنے کی شرح خواندگی پچیس فیصد ہے اور لکھنے کی ایک سو پچیس۔ مختلف تحریری مقابلوں کے ذریعے آپ کے فن اور دوسروں کی برداشت کا امتحان لیا جاتا ہے۔ سیاسی خبریں پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔ اِن کی جگہ ڈپریشن پھیلانے کا کام اردو غزلوں سے لیا جاتا ہے۔ اس سب کے باوجود اگر آپ یہاں داخلہ لینا چاہیں تو اپنی ذمہ داری پر لے سکتے ہیں۔
نوٹ:
اردو کی ترقی کیلئے بزم نامہ میں تمام خبریں اردو میں شائع کی جاتی ہیں۔
اردو کی ترقی میں حصہ لیجئے۔ اردو کو اردو میں لکھئے۔
انگریزی کی تنزلی میں حصہ لیجئے۔ انگریزی کو بھی اردو میں ہی لکھئے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں