منگل، 29 اکتوبر، 2013

شادیوں کا سیزن: از:فیصل ریاض


آج کل شادیوں کا دور دورہ ہے۔ ہر دوسری گلی میں شامیانے لگے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ان شادیوں کے سیزن (جسکو کچھ احباب see زن کا موقع بھی سمجھتے ہیں) میں بہت ساری مزاقیہ چیزیں بھی رونما ہو جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔ اسی طرح ایک مرتبہ ہمارے پڑوس میں ہوا جب ایک بارات غلطی سے کسی دوسرے شادی ہال میں داخل ہو گئی ۔ استقابلیے پر موجود خواتین اور بچیوں نے پھول برسانے شروع کر دیے ۔ کچھ نے زور سے اور کچھ نے شور سے برسائے ۔ کچھ باراتیوں کے منہ سے آہ نکلی تو کچھ کے منہ سے واہ نکلی ۔
دلہا میاں گھونگھٹ نکالے میرا مطلب ہے سہرا سے چہرہ چھپائے ہوئے ۔۔۔۔۔ (ویسے اس موقع پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دلہا منہ کیوں چھپاتا ہے کیا وہ کوئی ایسا ہی غلط کام کرنے جا رہا ہوتا ہے؟؟) بیبی (baby) سٹیپ (step) اٹھاتے ہوئے بلکل ایسے محسوس ہو رہے تھے جیسے کوئی بچہ پہلی دفعہ سکول کے دروازے میں داخل ہو رہا ہو۔۔۔۔۔۔ لجایا سا ، شرمایا ، گھبرایا سا ، سہما سا۔۔۔۔۔۔ خیر اسی اثناء میں استقبالیے میں سے کچھ منچلوں نے ڈھول کی تھاپ پر لڈی ڈالنے کے ساتھ پیسے بھِی لٹانے کا مظاہرہ کیا۔ لیکن اسی وقت اچانک ایک دھاڑ نما آواز نے سب کو رکنے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا یوں کہ جب دلہا میاں کو ملنے کے لیے انکے سسر نامدار آگے بڑھے اور اپنے ہونے والے داماد کی پیشانی پر بوسہ ثبت کرنے کے لیے دلہا کی چہرہ کشائی کی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دونوں کی بیک وقت چیخ نکل گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سسر نامدار کی حیرت اور غصے میں ملی جلی آواز گونجی بلکہ دھاڑی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوئے اے چپڑ گنجو کون ہے !!! اسکے بعد مت پوچھیے کہ کیا ہوا ۔
شادی میں مہندی کے موقع پر ہر مرد و زن دلہے یا دلہن کو مٹھائی کھلانا اور انکے سر پر تیل لگانا گویا ثواب دارین سمجھتے ہیں کہ اگر یہ رسم چھوٹ گئی تو کہیں سجدہ صافہ نا پڑ جائے ۔۔۔۔ دلہا بیچارے کو مٹھائی کھلا کھلا کر ایسے بھر دیا جاتا ہے کہ چیونٹیاں اسکے بستر پر پہلے سے تیار بیٹھی ہوتی ہیں اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دلہن کے سر پر اتنا تیل لگا دیا جاتا ہے کہ اگلے دن بیچاری بیوٹی پارلر والی پریشان ہو جاتی ہے کہ تیل کا انخلاء کیسے ممکن ہو۔ اور بعض اوقات مٹی کے تیل یا پیٹرول کی مدد لی جاتی ہے ۔۔۔ آخر لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے۔ 
بارات والے دن بھی عجب مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں اس دن دلہا میاں ایک کٹھ پتلی بنے ہوتے ہیں اسکو جو جیسے کہتا ہویسے ہی کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ دلہا میاں ہر مہمان کو ایسے اٹھ اٹھ کر مل رہے ہوتے ہیں جیسا کہ یہ انکی آخری رات ہے اور صبح انکو جنگ لڑنے کے لیے بارڈر پر جانا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی میرا ایک دوست شادی شدہ کو ہمیشہ شادی شہدا ہی کہتا ہے۔۔۔۔ رخصتی کے وقت اکثر دلہن سے زیادہ دلہا غمگین نظر آرہا ہوتا ہے ، آخر کیوں نہ ہو۔۔ بھلا کون خوشی خوشی اپنے آپ کو حوالہء جیل کرتا ہے۔ 
ولیمہ کے دن ہر مہمان کی نظر بار بار کھانے کے میز پر موجود خالی برتنوں پر ایسے پڑ رہی ہوتی ہے جیسا کہ مشہور زمانہ پیاسے کوے کی نظر گھڑے پر پڑتی تھی اور وہ گھڑے سے پانی حاصل کرنے کی تدبیریں سوچا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ولیمہ کے دوران تو حد ہی ہو گئی کسی شرارتی لونڈے نے اچانک زور سے مہمانوں کا پشندیدہ نعرہ لگا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ او روٹی کھل گئی اے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نعرہ سننے کے بعد تو ہر کوئی دھکم پیل کرتا ایک دوسرے پر گرتا پڑتا کھانے کی طرف دوڑا ۔۔۔۔ کوئی بھوکے شیر کی طرح ، تو کوئی بھوکے بلے کی طرح اور کوئی ندیدے مرغے کی طرح کھانے کی طرف لپکا ۔۔ لیکن جب میز پر خالی برتنوں نے منہ چڑایا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو بھوکے شیر کی طرح لپکا تھا وہ بھوکے شیر کی طرح دھاڑتا ہوا اس لونڈے کو ڈھونڈنے لگا ۔ ۔ جو بھوکے بلے کی طرح گیا تھا وہ کھسیا کر ٹینٹ کے بانس نوچتا ہوا ملا ۔۔۔۔۔ اور ندیدے مرغے کی طرح جنہوں نے چھلانگ لگائی تھی وہ ایک دوسرے پر کٹاک کٹاک کی آواذ نکالتے ہوئے ہستے ہوئے ملے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں ایک چند اشعار بھی آپکی نظر ہیں 

میں بھی کسی کا گھر والا ہوتا
پھر میرا بھی ایک سالا ہوتا ہے 

ایک عدد سالی متوالی ہوتی
ایک مسکین سسر نرالا ہوتا

ایک گوری چٹی سی بیوی ہوتی 
لوڈ شیڈنگ میں بھی اجالا ہوتا

میں کہتا رہتا جو میرا دل ہو
اور اسکے منہ پر صرف تالا ہوتا 

میں بھی کسی کا گھر والا ہوتاپھر
میرا بھی ایک سالا ہوتا ہے

از فیصل ریاض


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں