پیر، 25 نومبر، 2013

از: جاوید اقبال



حسرتیں جھانک رہی ہیں آنکھوں سے،
کانچ ٹوٹ گیا ہے کھڑکی کا،
کیسے گزریں گی یخ بستہ راتیں،
سوچ میں گم ہے غریب کا بیٹا

عین الحق پٹیل



آن کی آن میں تخریب کاری کی لہر پورے شہر میں پھیل گئی۔۔۔ایک بڑی شخصیت کے مارے جانے کا خمیازہ سارا شہر ادا کر رہا تھا۔۔۔۔چند لمحوں میں نقاب پوش حیوان نما انسان نمودار ہوچکے تھے۔۔۔بہت منظم طریقے سے دکانوں کو آگ لگائی جا رہی تھی،،،،لوگ اپنی متاع لٹتے دیکھ رہے تھے۔۔۔برسوں کی محنت سے کھڑے کئے گئے کاروبار۔۔کیمیکل آگ کی نظر ہو رہے تھے۔۔آگ تھی یا قیامت جو چند لمحوں میں پھیلتی جا رہی تھی۔۔۔سڑکیں تھیں کہ بے گناہوں کے خون سے سیراب ہو رہی تھیں۔۔۔قاتلوں کو کوئی خوف نہیں تھا۔۔وہ جانتے تھے اس شہر بے امان کے سارے محافظ ایک خفیہ حکم نامے سے مجبور اپنی اپنی کھولیوں میں گپیں ہانک رہے ہوں گے،،،عصمتیں لٹ رہی تھیں۔۔۔جوان مر رہے تھے۔۔۔کس گولی پر کس کا نام لکھا ہے کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔ہر طرف پتھرائو جاری تھا۔۔۔جیسے مرنے والی وہ بڑی شخصیت ہی زندہ رہنے کا حق رکھتی تھی۔۔اسکے مرنے کے بعد اب اس شہر میں کسی کو جینے کا حق نہیں۔۔۔۔۔۔
لوگ ڈرے سہمے گھروں میں محصور تھے۔۔۔۔ٹی وی آن تھا۔۔۔پر یہاں نا معلوم افراد کی شہ سرخی چل رہی تھی۔۔۔
نا معلوم افراد کی ہوائی فائرنگ سے اتنی اموات
نا معلوم افراد کی توڑ پھوڑ سے اتنا نقصان۔۔
نا معلوم افراد کی شر پسندی سے سارا شہر مفلوج۔۔۔
ارباب اختیار بھی نا معلوم افراد کا لاگ الاپ رہی تھے۔۔۔ایسا لگتا تھا یہ نا معلوم اچانک آسمان سے اترے اور آن کی آن میں شہر کو آگ لگا کر پھر آسمانوں کی طرف لوٹ گئے۔۔
نہ میڈیا دیکھ سکا۔۔نا سمجھدار سمجھ سکا۔۔۔

مگر کہیں دور کسی گھر میں ۔۔۔ایک ننھی سی بچی۔۔اپنے گھر کی ٹوٹی کھڑکی سے ان نا معلوم افراد کو بغور دیکھ رہی تھی۔۔۔
اگر کوئی اس سے پوچھتا تو وہ یہی کہتی۔۔۔یہ نا معلوم نہیں۔۔یہ تو اپنے ہی لگتے ہیں
اسی شہر کا کھاتے ہیں۔۔اسی شہر کے باسی ہیں۔۔۔ہاں ہاں میں دیکھ سکتی ہوں چھوٹی ہوں پر محسوس کر سکتی ہوں۔۔یہ تو اپنے ہی ہیں۔۔۔مجھ سے پوچھو میں جانتی ہوں۔۔
یہ نا معلوم نہین۔۔۔۔
پر کسی میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ اس ننھے گواہ سے پوچھ سکے۔۔۔۔
مصلحت بھی اسی میں تھی۔۔۔چپ رہا جائے اور کچھ نہ کہا جاے

از عین

از: فیصل ریاض


6 سالہ ننھی ثمینہ آنکھوں میں کئی سوال لیے حیرت سے کھڑکی کے ٹوٹ جانے سے بننے والے نئے سوراخوں میں سے باہر 6 دیکھ رہی تھی ، ابھی ایک گھنٹہ پہلے تک یہ کھڑکی سلامت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، ثمینہ کو یہاں پر کھڑے ہو کر باہر کے سر سبز کھیت میں اپنی بکریوں کے چھوٹے چھوٹے میمنوں کو اٹھکیلیاں کرتے دیکھنا بہت پسند تھا۔ یہ کھڑکی بھی ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی لگی تھی، کچھ مہینے پہلے تک انکا گھر بہت چھوٹا تھا صرف دو ہی تو کمرے تھے اور بارش کے دنوں میں کتنی مصیبت ہوتی تھی سارا چھت ٹپکنے لگتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اب پورے محلے میں انکا گھر سب سے شاندار تھا اب اسکی دو منزلیں تھی اور کمرے بھی پکے ۔ ثمینہ کے پاس کھلونے بھی اپنی سب سہیلیوں سے زیادہ تھے۔ اس وقت بھی اسکے ہاتھ میں وہ خوبصورت گڑیا موجود تھی جو اسکے بابا آج ہی اسکے لیے لیکر آئے تھے۔ 

آج وہ کتنی خوش تھی اس کے بابا اتنے مہینوں کے بعد جو گھر آئے تھے ، ثمینہ اپنی نئی گڑیا کے سنہرے بالوں میں کنگی کرنے میں مگن تھی ۔ اسکے بابا اور امی برآمدے میں بیٹھے کسی بات پر شاید بحث کر رہے تھے انکی آواز کبھی کبھی بہت تیز اور سخت ہو جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے میں ہی اچانک باہر سے کسی کے سپیکر میں بولنے کی آواز آئی ۔۔۔۔۔ کوئی اسکے بابا کا نام لیکر باہر آنے کے لیے کہ رہا تھا ۔ اسنے دیکھا تھا اسکا بابا اسی وقت اپنی بڑی سی بندوق جسکو وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا لیکر جلدی سے کھڑکی کی طرف لپکا تھا ۔۔۔۔ اسکے کچھی دیر کے بعد اسنے دل دہلا دینے والے خوفناک دھماکے سنے تھے۔ اسکی امی چیخ کر اسکی طرف بڑھی تھی اور اسکو اپنے وجود کے نیچے چھپا کر ایک طرف کونے میں دبک گئی تھی بلکل ویسے ہی جیسے اسکی مرغی بلی کو دیکھ کر اپنے چوزوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا لیا کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا ۔ دھماکوں کی آوازیں شدید ہو چکی تھی ۔ اسکے گھر کی کھڑکیاں ٹوٹ رہی تھی دیوارں میں چھید ہو رہے تھے ، اسکا خوبصورت گھر کھنڈر میں بدل رہا تھا ۔ پھر یہ شور تھم گیا اچانک ہر طرف سناٹا چھا گیا اسے ماں کی ہلکی ہلکی کراہیں سنائی دے رہی تھی اور کوئی سیال چیز اسکے کپڑوں کو بھگونے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔ پھر کچھ بھاری بوٹوں کی آواز اسکے گھر کے اندر ادھر سے اْدھر جاتی سنائی دینے لگی ۔ اسکی ماں کا بوجھ اسکے اوپر سے ہٹنے لگا ، لیکن ماں خود کیوں بول نہیں رہی تھی اور نہ ہی حرکت کر رہی تھی، اسنے دیکھا اسکی ماں کو دو فوجی اٹھا کر ایک طرف لٹا رہے تھے اس کی ماں کے کاندھے سے خون نکل رہا تھا اور اس کے بابا خون میں لت پت تھے انکی آنکھیں بھی بند تھیں پھر اسنے دیکھا فوجی اسکے بابا کو اٹھا کے لے جا رہے تھے۔۔۔۔۔ اسنے سنا تھا فوجی کہہ رہے تھے " آخر ہم نے اس خطرناک دہشت گرد کو مار گرایا " 

ثمینہ دوڑ کر کھڑکی کے پاس گئی اور اس میں بننے والے نئے سوراخوں میں سے باہر فوجیوں کی گاڑی کو دیکھنے لگی جس میں اسکے بابا کو جانے کہاں لیکر جا رہے تھے ۔۔۔۔۔ اسکے کمسن ذہن میں بہت سی باتیں ، بہت سے سوال گڈ مڈ ہو رہے تھے اور دو آنسو اسکی پلکوں سے بہہ کر گالوں میں جذب ہونے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

از فیصل ریاض

ننھے جاسوس : از: دریا خان



فیض آباد ایک چھوٹا شہر ہے .یہاں ریلوے کا جنکشن اور کپڑے کی دو عدد فیکٹری بھی ہے زیادہ تر لوگ ریلوے یا فیکٹری میں کام کرتےتھے. 

اسلم فیض آباد کے ایک ہائی اسکول میں آٹھویں کلاس کا طالبعلم تھا. محلے کے دو بچے ناصر اور عمران اسکے کلاس فیلو تھے ان میں خوب دوستی تھی. اسلم کے بڑے بھائی جو کالج میں تھے جاسوسی ناولوں کے شوقین تھے ان کے ساتھ ساتھ اسلم نے بھی چند ایک کتابیں پڑھیں تو اسے بھی چسکا لگ گیا. اسلم سے کتاب لیکر ناصر اور عمران بھی پڑھنے لگے اور جلد ہی ابن صفی کے کردار علی عمران اور کرنل فریدی ان میں حلول کر گیا. کتابیں پڑھنے کے بعد یہ آپس میں اس پر بحث بھی کر تے. جاسوسوں والے سٹائل میں بات کر نے کی کوشش کرتے اور وہ کسی ایسے واقع کی تلاش میں تھے جس سے انھیں اپنے جوھر دکھانے کا موقع ملتا. عمران تو نام سے ہی علی عمران تھا ناصر نے ایک محدث عدسہ بھی خرید رکھا تھا جس سے فنگر پرنٹس یا کوئی اور نشان دیکھنے کی کوشش کرتا اور یوں باتیں کرتاجیسے شرلاک ہومز کی روح اس میں آگئی ہےاور وہ ڈاکٹر واٹسن سے مصروف گفتگو ہے. 

ایک دن اسلم کو اپنے بڑے بھائی سے پتہ چلا کے کوئی جانور یا انسان قبرستان جاکر لاش کو نوچا کرتا ہے اور کفن چراتا ہے. کچھ لوگوں نے ریچھہ نما ایک جانور بھی دیکھا تھا جو قبر کھود رہا تھا اور انکو دیکھتے ہی بھاگ کر غائب ہو گیا. لوگوں میں اسپر سخت تشویش تھی کچھ کو گورکن پر بھی شک تھا کے یہ اسکی حرکت ہے.

اسلم سے ہوتی ہوئی یہ خبر ناصر اور عمران کو ملی اور انکی جاسوسی کی رگ پھڑک اٹھی وہ سوچنے لگے کے کسی ترکیب سے اس جانور نما انسان کو پکڑیں. کسی سے مشورہ کرناخطرناک تھا کیونکہ بات پھر انکے گھر والوں تک پہنچ جاتی اور پٹائی نہیں تو ڈانٹ ڈپٹ ضرور ہوتی. تینوں نے ملکر فیصلہ کیا کے جس دن کسی کی فوتگی ہو گی وہ اس رات فلم دیکھنے کے بہانے قبرستان جائیں گے اور چھپ کر دیکھیں گے کے کیا کرنا ہے. اسکول سے آنے کے بعد انہوں نے قبرستان کا ایک چکر لگایا اور کوئی مناسب جگہ تلاش کی. ایک طرف ایک شکستہ مکان تھا جس میں کبھی ایک فقیر رہتا تھا اب وہ خالی تھا کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹے ہوۓ تھے اورکوئی بچہ یہاں چھپ کر قبرستان سے آنے والے راستے کی نگرانی کر سکتا تھا. اطراف میں کافی درخت اور جھاڑیاں بھی تھیں. ابھی قبضہ گروپ نے ادھر کا رخ نہیں کیا تھا اسلئے گھر اور درخت وغیرہ بچے ہوۓ تھے.

محلے کا ایک بچہ یاسر جو کافی نڈر تھا اور چھٹی کلاس میں پڑھتا تھا اسے بھی انہوں نے ساتھ ملالیا تاکہ وہ کھڑکی سے نگرانی کرے اور اگر کوئی جانور یا انسان نظر آے تو پوائنٹر لائٹ اس پر ڈالے باقی کام ان تینوں نے اپنے ذمہ لیا. ناصر کے پاس ہتھیار کے نام پر ایک غلیل تھا اور اسکا نشانہ بھی اچھا تھا باقی دونوں نے فیصلہ کیا کے وہ اپنے پاس ڈنڈے رکھیں گے. اب وہ انتظار کر رہے تھے. 
چند دنوں کے بعد انھیں پتہ چلا کے ایک بوڑھے شخص کا انتقال ہو گیا ہے وہ بھی تدفین میں شامل ہو گۓ اور ہر چیز کا بغور معائینہ کیا. دفن والی جگہ اس شکشتہ مکان سے نزدیک تھا اور انکا خیال تھا کے وہ یہ ہی راستہ استعمال کرے گا. خیر حسب منصوبہ گھر والوں کو کہا کے رات والی فلم دیکھنی ہے چونکہ شہر میں امن و سکون تھا اس لئے گھر والوں نے اجازت دے دی اور وہ یاسر کو لیکر قبرستان پہنچ گۓ. اسلم نے یاسر کو چپس اور ٹافی دی اور کہا کے اس کھڑکی کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو جاؤ اور کسی کو آتا دیکھو تو اس پر پوائنٹر لائٹ ڈالنا اسکو پتا نہیں چلے گا کے کون یہ لائٹ ڈال رہا ہے اور جب ہم اسے گھیر لیں تو ٹارچ روشن کر دینا. اسے چھوڑ کر اسلم خود اس قبر کے نزدیک چلا گیا اور چھپ کر بیٹھ گیا یہ اس لئے کے وہ جانور کسی اور طرف جائے تو یہ باقی دونوں کو خبر کر سکے. ناصر اور عمران مکان کے نزدیک درختوں کے پاس چھپ گئے اور اب پھر انتظار. 

رات دس بجے کے قریب انھیں کچھ آوازیں آئین لیکن دوری کی وجہ کر کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا. تاروں کی مدھم روشنی میں انھیں ایک شبیہ دکھائی دی جو ریچھہ جیسا لنگڑا کر چل رہا تھا. اسلم اسکے پیچھے تھا اور اس انتظار میں تھا کے یہ اس مکان کے نزدیک جائے جہاں سب موجود ہیں. جب وہ شے مکان کے نزدیک آئ تو یاسر نے اسپر لائٹ ڈالی یہ دیکھتے ہی اسلم نے غلیل سے اسکے سر کا نشانہ لیا. اس چوٹ سے وہ پیچھے مڑا تو ناصر اور عمران نے اسکے پیر پر ڈنڈے مارے جس سے وہ گر گیا. ڈنڈوں کی بارش سے بیحال وہ اٹھ نہ سکا. لڑکوں کے شور سے گورکن اور کچھ لوگ آگۓ اور سب نے اسے پکڑ لیا. ایک شخص نے اسکے سر کو کھینچا تو کھال باہر آگیا وہ انکے علاقہ کا ایک چرسی تھا جو کفن چراکر بیچتا تھا اور اپنا نشہ پورا کر تا تھا. لوگوں کے پوچھنے پر اس نے بتایا کے وہ لاش کو کچھ نہیں کرتا تھا البتہ کبھی کبھی کپڑا کھینچنے پر لاش باہر آجاتی تھی اور وہ اسے وہیں چھوڑ جاتا تھا ہو سکتا ہے کوئی جانور گوشت نوچ لیتا ہو.

لوگوں نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا اور بچوں کو بہت شاباش ملی کے انکی وجہ کر کفن چور پکڑا گیا.

دریا خان

دکھ کے دام : از: حمیرا عثمانی


 میں یہ فیصلہ کر چکی تھی کہ سونو کو بتادینا چا ہے۔۔سونو حسب عادت کھڑکی کے پاس کھڑا سڑک پر گزرتی گاڑیاں دیکھ رہا تھا،میں جو ماھر فوٹوگرافرتھی لیکن اپنے بچے کے لیے محظ ایک ماں تھی،میں نے اس تصویر کے عوض سال کے بہترین فوٹو گرافر کا ایوارڈ اپنےنام کیا تھا۔۔۔۔کھانے کے بعد میں سونو کو سلانے کے لیے کمرے میں لے گٰئ،،اس کے بالوں میں ہاتھ پھرتے ہوئے کہا۔۔۔۔سونو اس بچے کی کہانی سنو گے۔۔۔۔وہ فورا اشتیاق سے بولا ہاں نا ضرور۔۔۔۔ایک دفعہ کا زکر ھے دور ایک گاوں تھا۔۔جہاں سب ھنسی خوشی رھتے تھے۔۔ اس گاوں پر ایک آدم خور نے حملہ کردیا۔۔۔۔وہ نا تو معصوم بچوں کو چھوڑتا نا ناتواں بوڑھوں کو۔۔یہ وہ درندہ ھے جو۔۔۔ڈرون نامی اپنے پالتو سے لوگوں کے گھروں پر حملہ کرتا ھے۔۔۔۔تم جانتے ھو،جب درندے نے حملہ کیا میں وہیں تھی۔۔۔۔اس معصوم بچے کا گھر خاندان سب تباہ ھوچکے تھے،بس یہ کھڑکی تھی اور اس میں بیٹھا یہ حیران انکھوں والا گل خان۔۔۔۔جو سوچ رھا تھا۔۔۔کہ اس سے اس کے گھر والے کیوں چھینے گئے،،،تب میں نے یہ تصویر کھینچی۔جس کے عوض مجھے بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔۔۔۔اس بچے کی خوبصورت آنکھیں تو سب نے دیکھیں۔۔۔لیکن ان میں بسا خوف کوئ نا دیکھ سکا۔۔۔۔سن رھے ھو نا تم۔۔۔لیکن وہ سو چکا تھا۔۔۔۔سوتے ہوئے وہ فرشتہ لگ رہا تھا۔۔۔۔تب مجھے   دور گاءوں کا گل خان یاد آگیا۔۔۔اور میں نے اپنے بچے کو زور سے اپنے پاس بھینچ کر اپنے بازءوں میں چھپا لیا۔۔۔۔کیا  ھوگا جب وہ خونی درندہ ھماری بستیوں میں بھی گھس ایا تو؟؟؟؟دکھ کے دام ملیں گے۔۔۔۔۔





نظم : از: داءودی قلم گر



اِس شہرِ بے قرار میں قرار کہاں سےلاؤں
اِس نفرت کے دیار میں پیار کہاں سے لاؤں
جہاں بِکتی ہوں نفرتیں ، جہاں بَٹتی ہوں کدورتیں
اُس بازار سے محبت کا اظہار کہاں سے لاؤں
لاشوں پہ دوسروں کی ہوتی یہاں سیاست
چنگیزیوں کو روکنے کودیوار کہاں سے لاؤں
دھنسے ہوئے ہیں سارےخواہشوں کی دلدلوں میں
نفس زدوں کے لئے سونے کا پہاڑ کہاں سے لاؤں
محبتیں ہیں ادھوری اور نفرتیں ہیں پوری
اِس بے وفا نگر میں دلدار کہاں سے لاؤں
محبت میں بیچتا ہوں ، محبت کے بدلے میں
لیکن یہ سوچتا ہوں خریدار کہاں سے لاؤں
قتل میرے پہ بن کے ھمدرد جو ہیں آئے
قاتل یہی ہیں میرے غمخوار کہاں سے لاؤں
داؤدی

از: آزاد


آوازیں آرہی تھی جنید جنید وہ اپنے کمرے سے اٹھا اور بھاگتا ھوا اس کھڑ کی کی جانب گیا جہا ں سے وہ باہر سے دیکھ سکے کہ اسے پکارنے والے کون ھیں۔ گلی کے چند لوگ تھے جو اسے بلا رہے تھے۔

اس نے ایک ٹھنڈی آہ لی پھر اپنی ماں کی کہی ان باتوں میں کھو گیا جو اسے اس کی ماں سمجھاتی تھی۔ اس کی ماں ایک ایسے جوان کی بیوہ تھی جو تعصبوں میں گھرا ہوا تھا اور اسی تعصب کو اپنا فرض سمجھتے ہوۓاپنی نزر میں شہید ھو گیا تھا۔ اسکے بعد ماں نے اپنے ٨ سالہ بیٹے کو سمجھایا کہ بیٹا تجھے لوگ آوازیں دیں گے بلائیں گے کہیں گے آؤ ھمارے ساتھ۔۔۔ سیکھوں ہم سے۔ سیکھ کر ہمیں ان لوگوں پر راج کرنا ہے جو نہیں سیکھ سکے۔۔۔۔۔ اپنا سکہ جمانا ہے. نام اونچا کرنا ہے،آجاؤ تم بھی چلو۔۔۔۔۔

ماں نے سانس لی اور پھر بنا رکے کہنا شروع کیا کہ تو انہیں کہنا۔ میں ایسے ہی ٹھیک ہوں، جو میرے اجداد نے تعصب بھرا ہے، جو جھوٹی زندگی رگوں میں رواں کی ہے، جو قصّے میری افکار میں بھرے ہیں.انہیں نکال کر باہر پھینکنا ہے، پھر اسی عمر میں ایک نیا جنم لینا ہے، یہ میری زندگی ہے سو خود کو خود کے مطابق بھرنا ہے، ابھی بہت کام کرنا ہے.۔۔۔۔۔۔۔ تم جاؤ!۔۔۔۔۔۔۔ کبھی میں بھی آجاؤں گا،۔۔۔ جنید اپنی سوچوں میں، الجھ الجھ کر ایک گچھا سا بن چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔­۔۔۔۔. دم گھٹ رہا تھا ، سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔­۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ انھیں ترتیب کیسے دے، اس کے اعصاب پہ سب کچھ اتناطاری ہوتا جا رہاتھاکہ اس نے سانسیں سدھارنے کی کوشش میں ایک لمبی سانس لی، پھر دوسری، پھر تیسری، اور پتا ہی نہیں چلا کہ کب اس نے زور سے ایک چیخ ماری، اور اس کے بعد دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔

اسے پھر وہی آواز سنای دی جنید جنید !

وہ انسوں صاف کر ہی رہا تھا کہ ایک اور پھتر آیا اور دوسرا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔۔

از: سید شاہ


یہ دسمبر کی بات ہے جب سخت سردیوں کا موسم شروع ہوچکا تھا اور مجھے لُنڈا بازار جانا تھا سردیوں کے لئے کچھ گرم کپڑے خریدنے تھے ( ظاہر ہے اتنی مہنگائی میں کسی شوپنگ مارکیٹ میں بُنینزا کے کپڑے خریدنے کے قابل تو نہیں تھا ویسے بھی ایک دو دفعہ چکر لگاچکا تھا توبہ کرکے ہی واپس چلا آیا اِس قدر مہنگے کوٹ اور بنیانوں کی قیمتیں سُن کر میری آنکھیں ہی باہر نکل آئیں تھیں ) ۔۔
آج میں کراچی کے علاقے سولجر بازار میں کھڑا کپڑوں کی خریداری کررہا تھا یہاں بھی پچھلے سال کے عوض اِس سال بہت مہنگائی تھی ۔
میں نے ایک مَفلر لیا ایک کوٹ اور کچھ بنیان لئے اور شام ہونے سے پہلے ہی گھر واپس لوٹ آیا 
صبح مجھے کام پہ جانا تھا لیکن آج صبح سے ہی بارش اپنے شور شرابے کے ساتھ برس رہی تھی جس کی وجہ سے ٹھنڈ میں مزید اضافہ ہو چلا تھا مجھے بارش میں بھیگنے کا بلکل شوق نہ تھا اسی بارش میں کئی دفعہ شدید بیماری کا سامنا کرنا پڑا تھا اس لئے اب میں بہت احتیاط کیا کرتا،
صبح کا منظر ایسا تھا گویا شام ہو چلی ہو
تھوڑی دیر یوں ہی گُم سُم کھڑا نجانے کیا سوچ رہا تھا کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی میں دروازے کی طرف بڑھا اور جاکر دروازہ کھول دیا
باہر ایک لڑکا ( تقریباً پندرہ سولہ سال کا ) کھڑا تھر تھر کانپتا ہوا مجھے حسرت بھری نگاہ سے دیکھ رہا تھا میں نے اس کا جائزہ لیا تو اس کے ہاتھ میں ایک کالی سی تھیلی تھی اور اس کے کپڑے گیلے ہوچکے تھے بیچارہ بارش میں بری طرح بھیگ چکا تھا
میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا اور پھر پوچھا کون ہو تم کہاں سے آئے ہو اور اسوقت یہاں کیا کررہے ہو ؟

وہ کہنے لگا ( کانپتے ہوئے ) ب۔بب۔بھائی یہ سردیوں کے گرم کپڑے ہیں اس نے تھیلی کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔۔ ،،، !!
میں یہ بیچنے آیا تھا ان گلی اور محلوں میں صبح سویرے چکر لگانے آتا ہوں لیکن آج صبح صبح ہی بارش برس گئی ۔۔
میں نے اُس کے ہاتھ سے تھیلا لیا اور اُسے اندر آنے کا کہا وہ اندر صحن میں آیا تو میں اُس کے تھیلے کی تلاشی لینے لگا اُس تھیلے میں واقعی کچھ گرم کپڑے تھے لیکن بچّوں کے، میں نے پوچھا یہ کوئی لیتا بھی ہے ؟
اُس نے کہا ہاں بھائی لیتے ہیں میں اس محلے میں اکثر آتا رہتا ہوں اور شہر کے مختلف گلیوں، محلّوں کے چکر لگاتا ہوں
میں نے پھر پوچھا ،،،! کتنی دیہاڑی لگ جاتی ہے اُس نے کہا کبھی سو اور کبھی ڈیڑھ سو مجھے کوئی حیرانگی نہ ہوئی کیونکہ یہ عام بات تھی، پھر پوچھا اتنے کم پیسے اور وہ بھی کبھی کبھی ۔ اچھا یہ بتاؤ گھر میں کون ہے کیا کوئی اور کمانے والا ہے ،،،،،!! وہ لڑکا کہنے لگا ہاں میرا باپ بھی ہے وہ مونگ پھلی بیچتا ہے رات کو، وہ دن بھر گھر میں رہتا ہے اور رات کو کام پہ نکل جاتا ہے گھر میں ایک ماں ہے اور مجھ سے چھوٹے دو بھائی اور ایک سب سے چھوٹی بہن ہے ۔۔۔۔۔۔ ،،،،،
پھر میرے ذہن میں اچانک خیال آیا تو میں نے پوچھا کہ تم سردیوں کے گرم کپڑے بیچ رہے ہو اور خود تم نے کچھ نہیں پہنا ؟ وہ کہنے لگا اگر میں پہنوں گا تو میرے چھوٹے بہن بھائی نہیں پہن سکیں گے مجھے اپنی فکر نہیں مجھے صرف گھر والوں کی فکر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک وہ اُٹھا اور کہنے لگا بارش رُک گئی میں نے باہر کی طرف دیکھا تو واقعی بارش رُک چکی تھی وہ میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنا تھیلا اُٹھا کر جیسے ہی اُٹھا میں نے کہا ایک منٹ کیلئے رکو، اور جاکر اپنا مفلر اُٹھایا اور اُسے دے دیا اُس کے مسلسل انکار کے باوجود میں نے زبردستی اُسے مفلر پہنایا تو وہ بیچارگی کی نظروں سے مجھے تکنے لگا اور کچھ دعائیں دیتا ہوا گھر سے باہر رُخصت ہو گیا ۔
اُس کے جانے کے بعد میں بہت دیر تک اُس کے بارے میں سوچتا رہا۔
جو لوگ دوسروں کیلئے جیتے ہیں اُن کیلئے کون جیتا ہے ؟؟ ۔

نظم: میرب مسکان



میں اکیلی اس دُنیا کے صحرا میں
کھڑی تھی 
وہاں ہر رات میری آنکھوں کے
آسمان سے
برسات ہوتی تھی
مگر!!
یہ کیا؟ اس صحرا میں پھول 
یہ کیسے ہوا؟ 
سوچا!
اتنے انمول آنسو
اتنے قیمتی آنسو
مجھے ان آنسؤں نے ایک پھول دیا
میں اُس پھول پر جُھک گئی
اتنا جُھکی کھ!
ڈھال بن گئی 
مگر! صحرا میں اتنی بھیڑ
اُن شیطانی قدموں کی
جو میرے پھول کو مسلنے لیئے 
بڑھ رہے تھے 
میں بے قرار ہو کر اور جُھک گئی
لیکن اُن بے رحم قدموں نے
اُس کو مسل ہی دیا 
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کو نہ بچا سکی 
تھوڑی سی خوشی بھی
اُن سے برداشت نہ ہوئی 
میں پھر اکیلی ہو گئی
اب!
میں ٹوٹ گئی ہوں
بِکھر گئی ہوں
ویران ہو گئی ہوں ۔

از:عمران قاضی


میں افسانہ نہیں لکھوں گا آج اس تصویری موضوع کو لے کر آپ سے کچھ دل کی باتیں کروں گا۔ لکھنے والوں کا دماغ کے ساتھ جب تک دل ساتھ نہ دے قلم چلتا نہیں۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ ہماری شخصیت ایک بند مکان کی طرح ہوتی ہے، اس میں ہر جانب ایک کھڑکی ہوتی ہے، سفید شفاف شیشوں والی، جس میں باہر دیکھنے سے سب شفاف نظر آتا ہے، اور اگر یہ کھڑکی ایسی ہی شفاف رہے تو باہر والوں کو بھی اندر کا اجلا پن نظر آسکتا ہے۔ 

میرا تعلق درس و تدریس سے ہے، میرا روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سوال کی اجازت نہیں دی جاتی۔ نہ گھر میں، نہ سکول میں۔ ہمارا بچپن، ہمارا لڑکپن ہماری نوجوانی کلبلاتے سوالوں کا مجموعہ ہوتی ہے، لیکن والدین سے پوچھیں تو جھاڑ پلا دیتے ہیں۔ استاد سے پوچھیں تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ اور وہ ان گنت سوالات آہستہ آہستہ دیمک کی طرح چاٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہماری شخصیت کی کھڑکی میں جالا لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایک جبس کی فضا ہر طرف چھانا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں بعض اوقات کوئی بہت اپنا ایک ایسا پتھر پھینکتا ہے کہ شخصیت کی خوبصورت کھڑکی چٹخ جاتی ہے، شیشے ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کھڑکی سے جڑا معصوم بچہ باہر دیکھنے کی کوشش میں مگن ہوتا ہے لیکن اس پتھراو کی وجہ سے خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ اور یہ شفاف کھڑکی اس کا منظر نامہ دھندلا دیتی ہے۔ یہ خوف ایک ریلے ریس کی مانند آگے سے آگے منتقل ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے ہاں اسی خوف نے عدم برداشت کا ماحول پروان چڑھا دیا ہے۔ 
میری کھڑکی کب کی ٹوٹ چکی، اس کے شیشوں کی کرچیاں مجھے زخمی کر گئیں لیکن اس کا مجھے ایک فائدہ ہوا مجھے محسوس ہوا کہ مجھے سوالات کرنے چائیں۔ اپنے آپ سے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے۔ شاید میری آئندہ نسلوں کی کھڑکی سے تازہ ہوا اندر آ جائے۔

کہانی : از : ادریس جامی


آج موسم بہت پیارا ہے ، اور سکول سے بھی چھٹی ہے ، ھمارے محلے کے پاس کوئی گراؤنڈ نہیں ہے ، اسی وجہ سے ہم گلی میں کرکٹ کھیلتے ہیں ، سارے محلے والے ہم سے تنگ ہیں ، کل ھمارے پاس بال نہیں تھی ، اس وجہ سے ہم کھیل نہیں رہے تھے ، امتیاز چاچو نے ہمکو اس طرح بیٹھے دیکھا تو پوچھا آج آپ لوگ کھیل کیوں نہیں رہے ؟؟ تو ہم نے کہا کہ ھمارے پاس بال نہیں ہے ، تو امتیاز چاچو نے ہم کو پیسے دے دیے اور ہم نے نئی بال لے لی ، امتیاز چاچو سب بچوں سے بہت پیار کرتے ہیں ، پورے محلے میں سے بس وہ ہی ہم کو کھیلنے پر نہیں ڈانٹتے ، کہتے ہیں اس دفع بلدیاتی الیکشن میں آپ کے لئے گراؤنڈ کی بات کروں گا ، پچھلے الیکشن میں بھی ھمارے محلے میں جلسہ ہوا تھا ، چوہدری صاحب نے سپیکر میں کہا تھا کہ ہم آپکے لئے ایک پارک بنائیں گے ، اور اس پارک میں ایک گراؤنڈ بھی ہوگا ، ہم بہت خوش ہووے تھے ، پاپا بھی ہم کو کھیلنے سے منع کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں گلی میں کھیلنے سے نقصان ہوتا ہے ، کسی کی لائٹ ٹوٹ جاتی ہے تو کسی کی کھڑکی میں گیند لگتی ہے ، گلی والے اتنے امیر نہیں ہیں کے وہ روز نقصان پرداشت کریں ، آج پھر میرے گھر کی کھڑکی ٹوٹ گئی ، پاپا نے ہم سے بال بھی چھین لی اور ھمارے کھیلنے پر بھی پابندی لگا دی ، ہم کو کوئی کھیلنے نہیں دیتا ، میں کھڑکی میں کھڑا گلی سے گزرتے ہووے امتیاز چاچو کو دیکھ رہا تھا ، وہ مجھ کو کھڑکی میں کھڑا دیکھ کر رک گئے ، انہوں نے ہاتھ میں بال پکڑی ہوئی تھی ، 
،
،
،
،
مگر ہم نے کھیلنا چھوڑ دیا تھا 

مسلم معاشرہ : از: عبدالباسط احسان


"بیٹا کیا کر رہے ہو ؟ ادھر آجاءو کھڑکی کے پاس نہ جاءو، ادھر آ کر اپنے کھلونوں سے کھیلو"

علی کی ماں نے اسکو درد بھری آواز میں پکارا۔
علی مسلسل گرد آلود کھڑکی کو بے بسی سے دیکھ رہا تھا، نجانے کتنے دن ہوگئے کہ اس نے کبھی باہر جھانک کر نہیں دیکھا۔ وہ باہر پارک میں فٹ بال کھیلتے بچوں کو دیکھنا چاہتا تھا، کیونکہ اسے یہ منظر بہت اچھالگتا تھا۔ 
علی سر جھکائے واپس اپنے کھلونوں کی طرف پلٹا۔۔۔۔ اس نے ریمورٹ سے چلنے والی گاڑی سے کھیلنے کے لیے ریمورٹ پکڑا ۔۔۔ مگر اس کا دل آج کھیل میں نہیں لگ رہا تھا۔
پتا نہیں میری ماں مجھے کھڑکی کے پاس جانے سے کیوں روکتی ہے؟ اس کے ذہن میں یہ معصوم خیال پیدا ہوتا تو اسے اپنی ماں سے الجھن ہونے لگتی جس نے اسے گھر میں قید کرکے رکھا تھا۔۔۔ وہ انھیں خیالات میں گم اپنی ماں کے پاس جاکر سوگیا۔
اگلے دن اس نے ماں کو کام میں مگن دیکھا تو چپکے سے کھڑکی کے پاس چلا گیا۔ کھڑکی گرد و غبار سے پوری طرح اندھی ہوچکی تھی ۔ وہ اسے صاف کرکے اپنے دوستوں کو سامنے پارک میں فٹ بال کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا، کیونکہ یہ اس کا پسندیدہ منظر تھا۔
اس نے جیسے ہی کھڑکی صاف کرنے کی کوشش کی تو ۔۔۔۔ ماں کی نظر اس پر پڑ گئ ۔۔ وہ بھاگتی ہوئ اس کے پاس آئ وہ اسے روکنا چاہتی تھی۔ باہر شرپسندوں نے جب کھڑکی کے اندر سے کسی انسان کا عکس دیکھا تو اس طرف فائرنگ شروع کردی ۔۔۔۔۔ ماں کا سینہ گولیوں سے چھلنی ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر علی بچ گیا ۔۔۔۔ وہ اب ٹوٹی ہوئ کھڑکی سے صاف دیکھ سکتا تھا کہ باہر ویرانی کا سماں تھا، کوئ بچہ فٹ بال نہیں کھیل رہا تھا۔ 
۔۔۔۔۔۔۔
عبدالباسط احسان

مکروہ پرندہ : از: نوید رزاق بٹ


'مکروہ پرندہ'

دادی اماں کی کہانیوں میں ہمیشہ مکروہ پرندے کا ذکر ضرور ہوتا تھا، جس نے ساتھ والے گاوں پر آفت نازل کر رکھی تھی۔ بچوں کے اصرار پر دادی اماں نے بتایا تھا کہ مکروہ پرندے میں ایک سینکڑوں سال پرانی درندہ صفت روح بستی ہے۔ وہ روح جس نے ماضی میں قبیلے کے قبیلے اور پوری پوری نسلیں نیست و نابود کر دی تھیں۔ اور جس نے پلَک چھپک میں لاکھوں انسانوں کو گھروں میں بیٹھے بیٹھے جلا کر بھسم کر دیا تھا۔ ایسی درندہ روح جس کے شر سے بچے بوڑھے جوان کوئی بھی محفوظ نہ تھا۔

کئی دنوں سے ننھے گُل جان کے ذہن میں ایک ہی سوال دوڑ رہا تھا، اور آج صبح اٹھتے ہی وہ اپنی الجھن لے کر دادی اماں کی چارپائی کی طرف لپکا۔ دادی اماں انتہائی خوف کی حالت میں چارپائی پر بیٹھیں تیزی سے ہل ہل کر تسبیح کر رہی تھیں۔

شاید اُنہیں غیبی اشارہ مل چکا تھا کہ موت نے اُن کا گھر دیکھ لیا ہے۔

اُن کی آنکھوں میں لالی اور چہرے کی زرد رنگت دیکھ کر گل جان سہم گیا۔ مگر اُس کا سوال بہت ضروری تھا۔

"دادی اماں، 'مکروہ' کیا ہوتا ہے؟"

دادی اماں ایک لمحے کے لیے بالکل ساکت ہو گئیں، تسبیح والا ہاتھ کانپنے لگا اور آنکھوں کی پُتلیاں سکڑ گئیں۔ انہوں نے لرزتے ہاتھ سے گل جان کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ دادی اماں کہا کرتی تھیں کہ بلاوں کی باتیں کرنے سے وہ نازل بھی ہو سکتی ہیں۔
اِسی انجان سی کشمکش میں گل جان کی نظر کھڑکی سے باہر پڑی۔ اُس کا باپ گھر کے احاطے میں کھڑا حیرانی سے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ گل جان ایک دم پورے زور سے چلایا، "دادی اماں، مکروہ پرندہ!"۔


ایک ہولناک دیو قامت پرندہ گھر کی جانب تیزی سے بڑھ رہا تھا۔

باہر کا منظر دیکھتے ہی دادی اماں کے ہاتھ سے تسبیح چھوٹ گئی۔ وہ اپنی مکمل بوڑھی جان کے ساتھ اچھل کر اٹھیں اور چھڑی کے بغیر ہی لنگڑاتی ہوئی احاطے کی طرف دوڑیں۔ مکروہ پرندہ اب گھر کے بہت قریب آ چکا تھا اور جس لمحے بوڑھی عورت نے لپک کر اپنے بیٹے کو بانہوں میں لپیٹا اُسی لمحے مکروہ پرندے نے ایک آگ کا گولا احاطے کی جانب مارا۔ شاید اُس نے پہچان لیا تھا کہ یہ وہی عورت ہے جو بچوں کو اُسکی کہانیاں سناتی ہے۔ ہولناک منظر کی دہشت سے گل جان بے اختیار زمین پر لیٹ گیا۔ باپ اور دادی کی دلدوز چیخوں اور پرندے کی خبیث بھنبھناہٹ کے بیچ ایک ہولناک دھماکے کی آواز اٹھی۔ پورا گھر لرزا اور کھڑکی کے شیشے ٹوٹ کر کچھ گل جان پر گرے۔ ایک لمحے کے لیے ساری کائنات خاموش ہوگئی۔ گل جان نے اٹھ کر ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے باہر جھانکا۔ گھر کے احاطے میں ایک گڑھا بن چکا تھا، سامنے کی دیوار گر چکی تھی اور کچھ چیتھڑے جلی ہوئی مٹی اور گھاس کے درمیان بکھرے پڑے تھے۔

مکروہ پرندہ ابھی تک گھر کے اوپر منڈلا رہا تھا۔

تحریر: نوید رزاق بٹ
----------------

شعر: ثوبیہ ناز صاحبہ



شیشہء دل تھا چور ، چور ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
سنگ باری نہ یوں رواں رکھتے !!!!

فی البدیہہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

ںظم :فاطمہ عنبرین



کس سے کہوں اے دل! 
وہ قیامت کی گھڑی تھی 
وحشت بہت دلچسپ دوراہے پہ کھڑی تھا
جانے کس بات پہ دل ھوگیا دو لخت
جانے کس بات پہ ٹوٹی ضبط کی کڑی تھی
درد سے میں چور تھا بکھرے تھے جذبات 
کرچیاں تھیں شیشے کی 
یا اشکوں کی لڑی تھی !
چہرہ تھا دھواں ھر سانس میں سسکی 
کوئ تو ھو کوئ تو ھو !
صدا دیتی تھی ھر سسکی 

وہ دوست ھو یا دشمن ۔۔۔ بس کوئ تو ھو ! 
بیتاب تھا دل کہنے کو جو دل پہ بیتی 
لب کھلنے نہ پاۓ تھے ابھی کہ اک آھٹ سی ھوئ 
دستک تھی در ذہن پہ اک سوچ کھڑی تھی
دوست ، سن کر قصہ غم رنجیدہ ھی تو ھوگا 
دشمن گر سنے، تو وحشت تماشہ ھی بنے گی ؟ 
پلٹی تھی سووچ نیا اک رنگ مجھے دیکر ۔۔۔
پگھلتا رھا دل پلکوں سے جھڑتے رھے موتی 
پھر کون ھو جو میرا غم بانٹ سکے؟

اک خاک نشین موتی پہ سایہ سا لہرایا
ٹوٹی ھوئ کھڑکی سے منعکس ھوا کوئ
اک نیلگوں چادر میرے سر پہ تنی تھی 
تھم گۓ اشک دل کو سہارا سا ھوا تھا 
سر جو اٹھایا کہ وہ عکس ھے کس کا؟؟ 

سائبان مجھ پہ میرے رب کی رحمت کا تھا 
نگاہ میری مہرباں اور خاموش عرش پہ جمی تھی !
ًًــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اے نُّورٌ عَلَى نُورٍ! 
دل کے اندھیروں کو دور کر دے 
اب آس کی یہ آخری سانس نہ ٹوٹے 
اور تیری ذات مجھے دنیا کے غم و ھم سے کافی ھوجاۓ 
آمین ۔

نظم : از: خدیجتہ الکبری


" شیشے پہ عکس امیدوں کا "

کھڑکی کے شیشے توڑ دینے سے 
کھڑکی اپنی جان سے نہیں جاتی 
یہ شیشہ بھی اک رکاوٹ ہے 
امید کی کھڑکی سے 
دیکھنے والے کے لئے 
ابھرتے ہوئے سورج کو 
چاہے شیشے ٹوٹیں یا ان پہ خراشیں پڑیں 
ان سے دیکھنے والے چہرے 
جنگ میں لٹے ہوئے چہرے نہیں ہوتے 
ہاں کھڑکیوں کے شیشے توڑنے والے 
امیدوں کے باغی لگتے ہیں

بقلم : خدیجتہ الکبریٰ

پیر، 4 نومبر، 2013

بھٹیارن : ایس زیڈ راجہ



مٹی سے لتھڑے ہاتھ منہ اور کپڑے ،تھکاوٹ سے برا حال ،ہاتھ اور انگلیاں بے جان ہو چکی ہوں جیسے ،آنکھوں میں بےبسی کے آنسو ۔۔۔ غریب کے لئے جینا بھی محال اور مرنا بھی محال- رجو سوچوں میں گم اینٹیں سانچے میں رکھ کے بنارہی تھی ' جوں ہی رفتار کم پڑتی ایک کرخت آواز سماعت سے ٹکراتی اور اس کے ہاتھوں کی رفتار تیز ہو جاتی -
ابھی کل کی ہی بات تھی جب فیکا اسے بڑے چاؤ سے بیاہ کے لایا تھا -٣ جماتیں پاس تھی پڑھنے کا بہت شوق تھا مگر ظالم غریبی پیٹ کا ایندھن بجھے یا پڑھائی ہو ماں اسے پیار سے سمجھاتی تو وہ دیر تک سوچ میں ڈوبی رہتی کہ کیا غریبوں کا کوئی حق نہیں کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کے معاشرے میں اپنا مقام بنا سکیں، کیا ہماری زندگیاں یونہی بھٹے پر گارا گوندتے اینٹیں بناتے گزر جائیں گی میں بیاہ کے بعد اپنے بچوں کو پڑھا کے بہت بڑا آدمی بناوں گی -وہ سوچ سوچ کے مسکرا رہی تھی -
فیکے کا رشتہ آیا اور ما ں باپ خوشی خوشی اس کا بوجھ کم ہو جانے کی امید پر شکر مناتے مسرور ہو گئے اور رشتہ بنا کسی تردد کے قبول بھی کر لیا گیا ،حالانکہ کے ابھی اسکی عمر ہی کیا تھی ١٣ سال ،کتنے خواب ابھی آنکھوں میں سجنے تھے -مگر وہ فیکے کے سنگ پاؤ بھر سرما ڈالے بالوں کو تیل سے چپڑے روانہ کر دی گئی -یہ تھا اسکا ہار سنگھار -اور وہ بہت خوش تھی دل ہی دل میں فیکا اسے بہت پسند تھا -
فیکے کے گھر اسکے ماں باپ اور ٢ بہنیں تھیں۔ فیکا چوں کہ اکلوتا تھا اس لئے اس کی دلہن کو بھی سر آنکھوں پر بٹھایا گیا -رجو بہت خوش تھی فیکا اسے بہت چاہتا تھا یونہی کرتے کرتے ان کے آنگن میں ٣ پھولوں کا اضافہ ہو گیا۔ فیکا بھٹے پر جاتا دیہاڑی لگاتا وہ گھر کے کام کاج میں گم اپنے بچوں کو بڑا آدمی بنانے کے خواب دیکھتی ۔۔۔۔۔
مگر ایک دن فیکا گھر سے نکلا تو شام کو اسکی لاش گھر آئی دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا اور فیکے نے موقعہ پر ہی دم توڑ دیا رجو کے خواب بکھر گے ٹھیکیدار اچھا انسان تھا اسے فیکے کی جگہ مزدوری دے دی تا کہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے -
گارا گوندتے اکثر اس کے آنسو مٹی میں ملتے سارے ارمان ساری خوشیاں سا رے خواب بکھر کے ٹوٹ گئے۔ اس کے تینوں بچے اسکے ساتھ ہوتے اور وہ سوچتی رہ جاتی کیا میری طرح مرے بچے ساری عمر اس بھٹے پر گزاردیں گے ، اینٹیں بناتے مٹی ڈھوتے جھڑکیاں سہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دبی دبی آہ و سسکیاں، لبوں سے خارج ہوتیں اور وہ کہتی ......
ہونا تو وهی ہے جو نصیبوں میں لکھا ہے 
لیکن وہ مرے خواب مرے خواب مرے خواب