ننھے منے سے تو خواب تھے وہ بھی پورے نہ ہوئے . باپ کے گھر میں تھی تو اپنے سہانے مستقبل کے خواب دیکھتی کہ حال توبے حال تھا . شادی ہوئی تو زندگی کا نیا باب کھلا معلوم پڑا کے خوابوں کی کوئی حقیقت نہی ہوتی. نہ جانے اسے غربت کی ذلت لاحق تھی یا ذلت کی غربت. اس کے ارد گرد اور بھی تو لوگ تھے لیکن اس کا دکھ نرالا تھا... خواب دیکھنا اس کی فطرت اور خواب کا ادھورا پن اسکی قسمت. اس پہ ستم ظریفی یہ کہ اس کے پہلو میں ایک اور بنت حوا اپنی خوابوں کی دنیا میں مگن تھی. . .

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں