پیر، 25 نومبر، 2013

عین الحق پٹیل



آن کی آن میں تخریب کاری کی لہر پورے شہر میں پھیل گئی۔۔۔ایک بڑی شخصیت کے مارے جانے کا خمیازہ سارا شہر ادا کر رہا تھا۔۔۔۔چند لمحوں میں نقاب پوش حیوان نما انسان نمودار ہوچکے تھے۔۔۔بہت منظم طریقے سے دکانوں کو آگ لگائی جا رہی تھی،،،،لوگ اپنی متاع لٹتے دیکھ رہے تھے۔۔۔برسوں کی محنت سے کھڑے کئے گئے کاروبار۔۔کیمیکل آگ کی نظر ہو رہے تھے۔۔آگ تھی یا قیامت جو چند لمحوں میں پھیلتی جا رہی تھی۔۔۔سڑکیں تھیں کہ بے گناہوں کے خون سے سیراب ہو رہی تھیں۔۔۔قاتلوں کو کوئی خوف نہیں تھا۔۔وہ جانتے تھے اس شہر بے امان کے سارے محافظ ایک خفیہ حکم نامے سے مجبور اپنی اپنی کھولیوں میں گپیں ہانک رہے ہوں گے،،،عصمتیں لٹ رہی تھیں۔۔۔جوان مر رہے تھے۔۔۔کس گولی پر کس کا نام لکھا ہے کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔ہر طرف پتھرائو جاری تھا۔۔۔جیسے مرنے والی وہ بڑی شخصیت ہی زندہ رہنے کا حق رکھتی تھی۔۔اسکے مرنے کے بعد اب اس شہر میں کسی کو جینے کا حق نہیں۔۔۔۔۔۔
لوگ ڈرے سہمے گھروں میں محصور تھے۔۔۔۔ٹی وی آن تھا۔۔۔پر یہاں نا معلوم افراد کی شہ سرخی چل رہی تھی۔۔۔
نا معلوم افراد کی ہوائی فائرنگ سے اتنی اموات
نا معلوم افراد کی توڑ پھوڑ سے اتنا نقصان۔۔
نا معلوم افراد کی شر پسندی سے سارا شہر مفلوج۔۔۔
ارباب اختیار بھی نا معلوم افراد کا لاگ الاپ رہی تھے۔۔۔ایسا لگتا تھا یہ نا معلوم اچانک آسمان سے اترے اور آن کی آن میں شہر کو آگ لگا کر پھر آسمانوں کی طرف لوٹ گئے۔۔
نہ میڈیا دیکھ سکا۔۔نا سمجھدار سمجھ سکا۔۔۔

مگر کہیں دور کسی گھر میں ۔۔۔ایک ننھی سی بچی۔۔اپنے گھر کی ٹوٹی کھڑکی سے ان نا معلوم افراد کو بغور دیکھ رہی تھی۔۔۔
اگر کوئی اس سے پوچھتا تو وہ یہی کہتی۔۔۔یہ نا معلوم نہیں۔۔یہ تو اپنے ہی لگتے ہیں
اسی شہر کا کھاتے ہیں۔۔اسی شہر کے باسی ہیں۔۔۔ہاں ہاں میں دیکھ سکتی ہوں چھوٹی ہوں پر محسوس کر سکتی ہوں۔۔یہ تو اپنے ہی ہیں۔۔۔مجھ سے پوچھو میں جانتی ہوں۔۔
یہ نا معلوم نہین۔۔۔۔
پر کسی میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ اس ننھے گواہ سے پوچھ سکے۔۔۔۔
مصلحت بھی اسی میں تھی۔۔۔چپ رہا جائے اور کچھ نہ کہا جاے

از عین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں