پیر، 25 نومبر، 2013

نظم : از: داءودی قلم گر



اِس شہرِ بے قرار میں قرار کہاں سےلاؤں
اِس نفرت کے دیار میں پیار کہاں سے لاؤں
جہاں بِکتی ہوں نفرتیں ، جہاں بَٹتی ہوں کدورتیں
اُس بازار سے محبت کا اظہار کہاں سے لاؤں
لاشوں پہ دوسروں کی ہوتی یہاں سیاست
چنگیزیوں کو روکنے کودیوار کہاں سے لاؤں
دھنسے ہوئے ہیں سارےخواہشوں کی دلدلوں میں
نفس زدوں کے لئے سونے کا پہاڑ کہاں سے لاؤں
محبتیں ہیں ادھوری اور نفرتیں ہیں پوری
اِس بے وفا نگر میں دلدار کہاں سے لاؤں
محبت میں بیچتا ہوں ، محبت کے بدلے میں
لیکن یہ سوچتا ہوں خریدار کہاں سے لاؤں
قتل میرے پہ بن کے ھمدرد جو ہیں آئے
قاتل یہی ہیں میرے غمخوار کہاں سے لاؤں
داؤدی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں