آوازیں آرہی تھی جنید جنید وہ اپنے کمرے سے اٹھا اور بھاگتا ھوا اس کھڑ کی کی جانب گیا جہا ں سے وہ باہر سے دیکھ سکے کہ اسے پکارنے والے کون ھیں۔ گلی کے چند لوگ تھے جو اسے بلا رہے تھے۔
اس نے ایک ٹھنڈی آہ لی پھر اپنی ماں کی کہی ان باتوں میں کھو گیا جو اسے اس کی ماں سمجھاتی تھی۔ اس کی ماں ایک ایسے جوان کی بیوہ تھی جو تعصبوں میں گھرا ہوا تھا اور اسی تعصب کو اپنا فرض سمجھتے ہوۓاپنی نزر میں شہید ھو گیا تھا۔ اسکے بعد ماں نے اپنے ٨ سالہ بیٹے کو سمجھایا کہ بیٹا تجھے لوگ آوازیں دیں گے بلائیں گے کہیں گے آؤ ھمارے ساتھ۔۔۔ سیکھوں ہم سے۔ سیکھ کر ہمیں ان لوگوں پر راج کرنا ہے جو نہیں سیکھ سکے۔۔۔۔۔ اپنا سکہ جمانا ہے. نام اونچا کرنا ہے،آجاؤ تم بھی چلو۔۔۔۔۔
ماں نے سانس لی اور پھر بنا رکے کہنا شروع کیا کہ تو انہیں کہنا۔ میں ایسے ہی ٹھیک ہوں، جو میرے اجداد نے تعصب بھرا ہے، جو جھوٹی زندگی رگوں میں رواں کی ہے، جو قصّے میری افکار میں بھرے ہیں.انہیں نکال کر باہر پھینکنا ہے، پھر اسی عمر میں ایک نیا جنم لینا ہے، یہ میری زندگی ہے سو خود کو خود کے مطابق بھرنا ہے، ابھی بہت کام کرنا ہے.۔۔۔۔۔۔۔ تم جاؤ!۔۔۔۔۔۔۔ کبھی میں بھی آجاؤں گا،۔۔۔ جنید اپنی سوچوں میں، الجھ الجھ کر ایک گچھا سا بن چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. دم گھٹ رہا تھا ، سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ انھیں ترتیب کیسے دے، اس کے اعصاب پہ سب کچھ اتناطاری ہوتا جا رہاتھاکہ اس نے سانسیں سدھارنے کی کوشش میں ایک لمبی سانس لی، پھر دوسری، پھر تیسری، اور پتا ہی نہیں چلا کہ کب اس نے زور سے ایک چیخ ماری، اور اس کے بعد دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔
اسے پھر وہی آواز سنای دی جنید جنید !
وہ انسوں صاف کر ہی رہا تھا کہ ایک اور پھتر آیا اور دوسرا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں