جمعہ، 1 نومبر، 2013

بچے کہیں جسے - از : ثروت گل



"بچے کهیں جسے"
بچوں کو پڑھانے کے لیے بڑے حوصلے اور صبروتحمل کی ضرورت ھوتی ھے اور قابل تحسین و داد ھیں وه اساتذه اکرام جو ان ننھی کلیوں کو اپنی ھمت و برداشت سے کھلنا سکھاتے ھیں-
ھوا کچھ یوں کے مجھے تین بچوں کو جو که بالترتیب کلاس سیونتھ ،فورتھ اور پریپ میں تھے پڑھانا پڑا تو نانی کی بھی دادی یاد آ گئیں. سب سے پهلے تو پریپ کا وه بچه جو کسی طور ن نل پڑھنے پر راضی نھیں تھا اور اگلے ھی روز یه کهه کر پڑھنے سے انکار کردیا که ٹیچر کو خود پڑھنا نھیں آتا کہ ھمیں کیا پڑھائیں گی، ٹونٹی کو نل پڑھاتی ھے-
چھتر کو جوتا پڑھاتی ھیں-مما پلیزمیرے لیے کسی اور ٹیچر کا بندوبست کریں-
جو ایک روز فور کا ٹیبل یاد نه ھونے پر انٹا زبان تو تمھاری فر فر چلتی ھے اور پہاڑے یاد نھیں ھوتے تو فورا جواب آیا ٹیچر زبان کے کون سے ٹائر ھوتے ھیں، جو چلے، چلتی تو میری گاڑی ھے سیل ختم بھی ھو جائیں تو میں ذرا سا دھکا دوں تو فراٹے بھرتی ھے-اسے ڈانٹ کے چپ کروایا تو بڑی بہن خیر سے علامه اقبال کے اشعار سنانے لگی- اب جو اس نے شعر پڑھا وه کچھ یوں تھا
گرد سے پاک ھے ھوا، برگ_نخیل دھل گئے،
ریگ_نواح_کاظمه زھر ھے مثل_پرنیاں
جب کہ شعر پڑھتے وقت اس نے پرنیاں کو بریانیاں کردیا- شعر پڑھنے کے بعد محترمه گویا ھوئی، لگتا ھے ٹیچر اقبال کو بھی بریانی پسند نھیں تھی- مصور_پاکستان کا نام اتنی بے تکلفی سے لینے پر میں پهلے تو یه سمجھی اقبال اس کے چھوٹے بھائی کا نام ھے مگر اس کی مزید گوھر افشانی نے میرا اندازه کاغذ کا جھاز بنا کے اڑا دیا دیکھیں نا ٹیچر اقبال نے بریانیوں کو معدے کے لیے زھر قرار دیا ھے ویسے ٹیچر آپکو بریانی پسند ھے؟ ٹیچرحفصه امین کے ابو ( اب ٹیچر کی جانے بلا کون حفصه امین ) کو بھت پسند ھے جس روز ڈنر میں بریانی بنائی جاتی ھے اسکے ابو ناشته بھی بریانی سے کرتے ھیں- ویسے جب صبح وه چاۓ کے ساتھ بریانی کھاتے ھوں گے تو کتنا حسین منظر ھوتا ھو گا کاش میں دیکھ سکتی پتا نھیں چاۓ بریانی میں ڈبوتے ھوں گے یا بریانی کو چاۓ میں غوطے دیتے ھوں گے؟ اور ساتھ کهی کهی کهی ، خیر ٹیچر آپ یه دوسرا شعر سن لیں -
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جاۓ گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
- مجھے اس کی سمجھ نھیں آتی ٹیچر اب آپ ھی سمجھائیں اقبال نے شجاعت اور صداقت کا سبق پڑھنے کا مشوره کیوں دیا، اقبال کافی سمجھدار تھا انکو چاھیۓ تھا فرماتے ھر کوئی اپنا اپنا سبق پڑھے شجاعت وغیره خود اپنا سبق پڑھ لیں گے اور ٹیچر یه آخری شعر ھے جو میں نے یاد کیا ھے - عزائم کو سینوں میں بیدار کردے، نگاه مسلمان کو تلوار کر دے- ٹیچر ادھر اقبال نے یه دعا مانگی ھے اور
ادھر میری نظریں ھیں تلوار،
کس کا دل ھے روکے وار،
توبه توبه استغفار،
توبه توبه کی جا رھی ھے اب بنده کس کی مانے؟ مجھے اس بچی نے زچ کرنے میں کوئی کسر نھیں چھوڑی تھی اور میں غصے کا غباره بنی برداشت کا سبق خود کو پڑھانےلگی که تیسری بهن نے آکر رھی سهی کسر بھی پوری کردی اردو کے جملے سنا کر- جوانمردی پر جمله بنانا تھا وه اس نے کچھ ایسے سنایا-سلیمه ایک جوانمردی عورت ھے-اور پھر میں پھٹ پڑھی اور توبه کی جو کسی بچے کو کبھی پڑھاؤں- مجھے اپنا بھائی یاد آیا جو میرے ساتھ ھی پڑھتا تھا جس ٹیچر نے گ گدھا پڑھایا تو اگلے دن اس نے کچھ یوں پڑھا ...... گ گنڈے بسر کھوتیاں کیوں که تصویر میں گدھے پر ایک پیازوں کی بوری لادی ھوئی تھی، اور سر نجم جو کے صوفی تبسم کی نظمیں یاد کرواتے تھے انکا نام ھی صوفی تبسم سائیں نجم تارا رارا پم پم رکھ دیا تھا-

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں