پیر، 25 نومبر، 2013

دکھ کے دام : از: حمیرا عثمانی


 میں یہ فیصلہ کر چکی تھی کہ سونو کو بتادینا چا ہے۔۔سونو حسب عادت کھڑکی کے پاس کھڑا سڑک پر گزرتی گاڑیاں دیکھ رہا تھا،میں جو ماھر فوٹوگرافرتھی لیکن اپنے بچے کے لیے محظ ایک ماں تھی،میں نے اس تصویر کے عوض سال کے بہترین فوٹو گرافر کا ایوارڈ اپنےنام کیا تھا۔۔۔۔کھانے کے بعد میں سونو کو سلانے کے لیے کمرے میں لے گٰئ،،اس کے بالوں میں ہاتھ پھرتے ہوئے کہا۔۔۔۔سونو اس بچے کی کہانی سنو گے۔۔۔۔وہ فورا اشتیاق سے بولا ہاں نا ضرور۔۔۔۔ایک دفعہ کا زکر ھے دور ایک گاوں تھا۔۔جہاں سب ھنسی خوشی رھتے تھے۔۔ اس گاوں پر ایک آدم خور نے حملہ کردیا۔۔۔۔وہ نا تو معصوم بچوں کو چھوڑتا نا ناتواں بوڑھوں کو۔۔یہ وہ درندہ ھے جو۔۔۔ڈرون نامی اپنے پالتو سے لوگوں کے گھروں پر حملہ کرتا ھے۔۔۔۔تم جانتے ھو،جب درندے نے حملہ کیا میں وہیں تھی۔۔۔۔اس معصوم بچے کا گھر خاندان سب تباہ ھوچکے تھے،بس یہ کھڑکی تھی اور اس میں بیٹھا یہ حیران انکھوں والا گل خان۔۔۔۔جو سوچ رھا تھا۔۔۔کہ اس سے اس کے گھر والے کیوں چھینے گئے،،،تب میں نے یہ تصویر کھینچی۔جس کے عوض مجھے بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔۔۔۔اس بچے کی خوبصورت آنکھیں تو سب نے دیکھیں۔۔۔لیکن ان میں بسا خوف کوئ نا دیکھ سکا۔۔۔۔سن رھے ھو نا تم۔۔۔لیکن وہ سو چکا تھا۔۔۔۔سوتے ہوئے وہ فرشتہ لگ رہا تھا۔۔۔۔تب مجھے   دور گاءوں کا گل خان یاد آگیا۔۔۔اور میں نے اپنے بچے کو زور سے اپنے پاس بھینچ کر اپنے بازءوں میں چھپا لیا۔۔۔۔کیا  ھوگا جب وہ خونی درندہ ھماری بستیوں میں بھی گھس ایا تو؟؟؟؟دکھ کے دام ملیں گے۔۔۔۔۔





کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں