پیر، 25 نومبر، 2013

نظم: میرب مسکان



میں اکیلی اس دُنیا کے صحرا میں
کھڑی تھی 
وہاں ہر رات میری آنکھوں کے
آسمان سے
برسات ہوتی تھی
مگر!!
یہ کیا؟ اس صحرا میں پھول 
یہ کیسے ہوا؟ 
سوچا!
اتنے انمول آنسو
اتنے قیمتی آنسو
مجھے ان آنسؤں نے ایک پھول دیا
میں اُس پھول پر جُھک گئی
اتنا جُھکی کھ!
ڈھال بن گئی 
مگر! صحرا میں اتنی بھیڑ
اُن شیطانی قدموں کی
جو میرے پھول کو مسلنے لیئے 
بڑھ رہے تھے 
میں بے قرار ہو کر اور جُھک گئی
لیکن اُن بے رحم قدموں نے
اُس کو مسل ہی دیا 
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کو نہ بچا سکی 
تھوڑی سی خوشی بھی
اُن سے برداشت نہ ہوئی 
میں پھر اکیلی ہو گئی
اب!
میں ٹوٹ گئی ہوں
بِکھر گئی ہوں
ویران ہو گئی ہوں ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں