پیر، 25 نومبر، 2013

مسلم معاشرہ : از: عبدالباسط احسان


"بیٹا کیا کر رہے ہو ؟ ادھر آجاءو کھڑکی کے پاس نہ جاءو، ادھر آ کر اپنے کھلونوں سے کھیلو"

علی کی ماں نے اسکو درد بھری آواز میں پکارا۔
علی مسلسل گرد آلود کھڑکی کو بے بسی سے دیکھ رہا تھا، نجانے کتنے دن ہوگئے کہ اس نے کبھی باہر جھانک کر نہیں دیکھا۔ وہ باہر پارک میں فٹ بال کھیلتے بچوں کو دیکھنا چاہتا تھا، کیونکہ اسے یہ منظر بہت اچھالگتا تھا۔ 
علی سر جھکائے واپس اپنے کھلونوں کی طرف پلٹا۔۔۔۔ اس نے ریمورٹ سے چلنے والی گاڑی سے کھیلنے کے لیے ریمورٹ پکڑا ۔۔۔ مگر اس کا دل آج کھیل میں نہیں لگ رہا تھا۔
پتا نہیں میری ماں مجھے کھڑکی کے پاس جانے سے کیوں روکتی ہے؟ اس کے ذہن میں یہ معصوم خیال پیدا ہوتا تو اسے اپنی ماں سے الجھن ہونے لگتی جس نے اسے گھر میں قید کرکے رکھا تھا۔۔۔ وہ انھیں خیالات میں گم اپنی ماں کے پاس جاکر سوگیا۔
اگلے دن اس نے ماں کو کام میں مگن دیکھا تو چپکے سے کھڑکی کے پاس چلا گیا۔ کھڑکی گرد و غبار سے پوری طرح اندھی ہوچکی تھی ۔ وہ اسے صاف کرکے اپنے دوستوں کو سامنے پارک میں فٹ بال کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا، کیونکہ یہ اس کا پسندیدہ منظر تھا۔
اس نے جیسے ہی کھڑکی صاف کرنے کی کوشش کی تو ۔۔۔۔ ماں کی نظر اس پر پڑ گئ ۔۔ وہ بھاگتی ہوئ اس کے پاس آئ وہ اسے روکنا چاہتی تھی۔ باہر شرپسندوں نے جب کھڑکی کے اندر سے کسی انسان کا عکس دیکھا تو اس طرف فائرنگ شروع کردی ۔۔۔۔۔ ماں کا سینہ گولیوں سے چھلنی ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر علی بچ گیا ۔۔۔۔ وہ اب ٹوٹی ہوئ کھڑکی سے صاف دیکھ سکتا تھا کہ باہر ویرانی کا سماں تھا، کوئ بچہ فٹ بال نہیں کھیل رہا تھا۔ 
۔۔۔۔۔۔۔
عبدالباسط احسان

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں