مٹی سے لتھڑے ہاتھ منہ اور کپڑے ،تھکاوٹ سے برا حال ،ہاتھ اور انگلیاں بے جان ہو چکی ہوں جیسے ،آنکھوں میں بےبسی کے آنسو ۔۔۔ غریب کے لئے جینا بھی محال اور مرنا بھی محال- رجو سوچوں میں گم اینٹیں سانچے میں رکھ کے بنارہی تھی ' جوں ہی رفتار کم پڑتی ایک کرخت آواز سماعت سے ٹکراتی اور اس کے ہاتھوں کی رفتار تیز ہو جاتی -
ابھی کل کی ہی بات تھی جب فیکا اسے بڑے چاؤ سے بیاہ کے لایا تھا -٣ جماتیں پاس تھی پڑھنے کا بہت شوق تھا مگر ظالم غریبی پیٹ کا ایندھن بجھے یا پڑھائی ہو ماں اسے پیار سے سمجھاتی تو وہ دیر تک سوچ میں ڈوبی رہتی کہ کیا غریبوں کا کوئی حق نہیں کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کے معاشرے میں اپنا مقام بنا سکیں، کیا ہماری زندگیاں یونہی بھٹے پر گارا گوندتے اینٹیں بناتے گزر جائیں گی میں بیاہ کے بعد اپنے بچوں کو پڑھا کے بہت بڑا آدمی بناوں گی -وہ سوچ سوچ کے مسکرا رہی تھی -
فیکے کا رشتہ آیا اور ما ں باپ خوشی خوشی اس کا بوجھ کم ہو جانے کی امید پر شکر مناتے مسرور ہو گئے اور رشتہ بنا کسی تردد کے قبول بھی کر لیا گیا ،حالانکہ کے ابھی اسکی عمر ہی کیا تھی ١٣ سال ،کتنے خواب ابھی آنکھوں میں سجنے تھے -مگر وہ فیکے کے سنگ پاؤ بھر سرما ڈالے بالوں کو تیل سے چپڑے روانہ کر دی گئی -یہ تھا اسکا ہار سنگھار -اور وہ بہت خوش تھی دل ہی دل میں فیکا اسے بہت پسند تھا -
فیکے کے گھر اسکے ماں باپ اور ٢ بہنیں تھیں۔ فیکا چوں کہ اکلوتا تھا اس لئے اس کی دلہن کو بھی سر آنکھوں پر بٹھایا گیا -رجو بہت خوش تھی فیکا اسے بہت چاہتا تھا یونہی کرتے کرتے ان کے آنگن میں ٣ پھولوں کا اضافہ ہو گیا۔ فیکا بھٹے پر جاتا دیہاڑی لگاتا وہ گھر کے کام کاج میں گم اپنے بچوں کو بڑا آدمی بنانے کے خواب دیکھتی ۔۔۔۔۔
مگر ایک دن فیکا گھر سے نکلا تو شام کو اسکی لاش گھر آئی دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا اور فیکے نے موقعہ پر ہی دم توڑ دیا رجو کے خواب بکھر گے ٹھیکیدار اچھا انسان تھا اسے فیکے کی جگہ مزدوری دے دی تا کہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے -
گارا گوندتے اکثر اس کے آنسو مٹی میں ملتے سارے ارمان ساری خوشیاں سا رے خواب بکھر کے ٹوٹ گئے۔ اس کے تینوں بچے اسکے ساتھ ہوتے اور وہ سوچتی رہ جاتی کیا میری طرح مرے بچے ساری عمر اس بھٹے پر گزاردیں گے ، اینٹیں بناتے مٹی ڈھوتے جھڑکیاں سہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دبی دبی آہ و سسکیاں، لبوں سے خارج ہوتیں اور وہ کہتی ......
ہونا تو وهی ہے جو نصیبوں میں لکھا ہے
لیکن وہ مرے خواب مرے خواب مرے خواب
ابھی کل کی ہی بات تھی جب فیکا اسے بڑے چاؤ سے بیاہ کے لایا تھا -٣ جماتیں پاس تھی پڑھنے کا بہت شوق تھا مگر ظالم غریبی پیٹ کا ایندھن بجھے یا پڑھائی ہو ماں اسے پیار سے سمجھاتی تو وہ دیر تک سوچ میں ڈوبی رہتی کہ کیا غریبوں کا کوئی حق نہیں کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کے معاشرے میں اپنا مقام بنا سکیں، کیا ہماری زندگیاں یونہی بھٹے پر گارا گوندتے اینٹیں بناتے گزر جائیں گی میں بیاہ کے بعد اپنے بچوں کو پڑھا کے بہت بڑا آدمی بناوں گی -وہ سوچ سوچ کے مسکرا رہی تھی -
فیکے کا رشتہ آیا اور ما ں باپ خوشی خوشی اس کا بوجھ کم ہو جانے کی امید پر شکر مناتے مسرور ہو گئے اور رشتہ بنا کسی تردد کے قبول بھی کر لیا گیا ،حالانکہ کے ابھی اسکی عمر ہی کیا تھی ١٣ سال ،کتنے خواب ابھی آنکھوں میں سجنے تھے -مگر وہ فیکے کے سنگ پاؤ بھر سرما ڈالے بالوں کو تیل سے چپڑے روانہ کر دی گئی -یہ تھا اسکا ہار سنگھار -اور وہ بہت خوش تھی دل ہی دل میں فیکا اسے بہت پسند تھا -
فیکے کے گھر اسکے ماں باپ اور ٢ بہنیں تھیں۔ فیکا چوں کہ اکلوتا تھا اس لئے اس کی دلہن کو بھی سر آنکھوں پر بٹھایا گیا -رجو بہت خوش تھی فیکا اسے بہت چاہتا تھا یونہی کرتے کرتے ان کے آنگن میں ٣ پھولوں کا اضافہ ہو گیا۔ فیکا بھٹے پر جاتا دیہاڑی لگاتا وہ گھر کے کام کاج میں گم اپنے بچوں کو بڑا آدمی بنانے کے خواب دیکھتی ۔۔۔۔۔
مگر ایک دن فیکا گھر سے نکلا تو شام کو اسکی لاش گھر آئی دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا اور فیکے نے موقعہ پر ہی دم توڑ دیا رجو کے خواب بکھر گے ٹھیکیدار اچھا انسان تھا اسے فیکے کی جگہ مزدوری دے دی تا کہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے -
گارا گوندتے اکثر اس کے آنسو مٹی میں ملتے سارے ارمان ساری خوشیاں سا رے خواب بکھر کے ٹوٹ گئے۔ اس کے تینوں بچے اسکے ساتھ ہوتے اور وہ سوچتی رہ جاتی کیا میری طرح مرے بچے ساری عمر اس بھٹے پر گزاردیں گے ، اینٹیں بناتے مٹی ڈھوتے جھڑکیاں سہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دبی دبی آہ و سسکیاں، لبوں سے خارج ہوتیں اور وہ کہتی ......
ہونا تو وهی ہے جو نصیبوں میں لکھا ہے
لیکن وہ مرے خواب مرے خواب مرے خواب

zabardast
جواب دیںحذف کریں