میں افسانہ نہیں لکھوں گا آج اس تصویری موضوع کو لے کر آپ سے کچھ دل کی باتیں کروں گا۔ لکھنے والوں کا دماغ کے ساتھ جب تک دل ساتھ نہ دے قلم چلتا نہیں۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ ہماری شخصیت ایک بند مکان کی طرح ہوتی ہے، اس میں ہر جانب ایک کھڑکی ہوتی ہے، سفید شفاف شیشوں والی، جس میں باہر دیکھنے سے سب شفاف نظر آتا ہے، اور اگر یہ کھڑکی ایسی ہی شفاف رہے تو باہر والوں کو بھی اندر کا اجلا پن نظر آسکتا ہے۔
میرا تعلق درس و تدریس سے ہے، میرا روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سوال کی اجازت نہیں دی جاتی۔ نہ گھر میں، نہ سکول میں۔ ہمارا بچپن، ہمارا لڑکپن ہماری نوجوانی کلبلاتے سوالوں کا مجموعہ ہوتی ہے، لیکن والدین سے پوچھیں تو جھاڑ پلا دیتے ہیں۔ استاد سے پوچھیں تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ اور وہ ان گنت سوالات آہستہ آہستہ دیمک کی طرح چاٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہماری شخصیت کی کھڑکی میں جالا لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایک جبس کی فضا ہر طرف چھانا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں بعض اوقات کوئی بہت اپنا ایک ایسا پتھر پھینکتا ہے کہ شخصیت کی خوبصورت کھڑکی چٹخ جاتی ہے، شیشے ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کھڑکی سے جڑا معصوم بچہ باہر دیکھنے کی کوشش میں مگن ہوتا ہے لیکن اس پتھراو کی وجہ سے خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ اور یہ شفاف کھڑکی اس کا منظر نامہ دھندلا دیتی ہے۔ یہ خوف ایک ریلے ریس کی مانند آگے سے آگے منتقل ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے ہاں اسی خوف نے عدم برداشت کا ماحول پروان چڑھا دیا ہے۔
میری کھڑکی کب کی ٹوٹ چکی، اس کے شیشوں کی کرچیاں مجھے زخمی کر گئیں لیکن اس کا مجھے ایک فائدہ ہوا مجھے محسوس ہوا کہ مجھے سوالات کرنے چائیں۔ اپنے آپ سے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے۔ شاید میری آئندہ نسلوں کی کھڑکی سے تازہ ہوا اندر آ جائے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں