رانی کے باپ کو مرے ١ سال ہوگیا وہ ٣ سال کی تھی جب اسکا باپ نشے کی لت کی وجہ سے اس جہاں فانی سے کوچ کر گیا تھا..اسکی کل کائنات اور اسکا واحد سہارا اسکی ماں تھی اس کی ماں کلثوم شیر خوار فضل کو ساتھ لے کے روزکام پر نکل جاتی تھی ،،محنت مزدوری سے جی چرانا اسے نہیں آتا تھا......
....آج بھی وہی ہوا جس کا اسے ڈر تھا ٹھیکہ دار کی گڑتی ہوئی نظریں اس کا جب پوسٹ مارٹم کرتی تو اس کی رگوں میں غصے کی آ گ بھڑک جاتی اسکا بس نہیں چلتا کے وہ ان آنکھوں کو نوچ پھینکیں مگر اسکے ہاتھ غلامی کی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں اس کے مرحوم شوہر نے ٹھیکیدار سے جو قرض لئے تھے اسے ان سب کا بھگتان بھگتنا ہے.. مزدوری کے بدلے تنخواہ کا اچھا خاصہ حصہ قرض چکا نے میں خرچ ہوجاتا لیکن قرض ہے کہ اترنے کانام نہیں لیتا ایسے میں وہ مجبورن اس ٹھیئے پر کا م کر رہی تھی ...
......اور آج تو حد ہوگی ٹھکیدار نے تنخواہ دینے کے بہانے اس کی کلائی کس کے جکڑ لی ... ٹھیکیدارکی نیت وہ اچھی طرح جانتی تھی بھلا ہو کے پیچھے سے کسی نے اسے آواز دی اور وہ موقع غنیمت جان کے ہاتھ چھڑا کے بھاگی ....تنخواہ بھی وہیں چھوڑ آئی ........................................ اور دل ہی دل آج طے کرلیا..کہ وہ یہ کام چھوڑ دے گی وہ کچھ نہ کچھ کر کے گزارا کر لے گی
وہ اسی اڈھیر بن میں تھی کہ رانی کی آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی جو اسکا دوپٹہ کھنچتے
ہوئے اپنے لئےاس سے روز کی طرح نئے کپڑو ں کی فرمائش کر رہی
تھی جسے وہ پچھلے دو ماہ سے ٹال رہی تھی .. آج اس نے اپنی لاڈلی سے وعدہ کیا تھا کے وہ اس بار تنخواہ پہ نئی فراک دلائے گی
...اگلے ہی لمحے وہ فضل کو گود میں اٹھا کے دوپٹے سے پیشانی کا پسینہ صاف کرتی ٹھکیدار کے دفتر کی جانب بڑھی ....

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں