ہفتہ، 2 نومبر، 2013

جھلستی خوشیاں : از: عبدالباسط احسان


"بھوک سے بڑا عذاب شاید ہی دنیا میں کوئ دوسرا آیا ہو " شریفاں بی بی ' ہاتھوں کے چھالوں کو دیکھتی ہوئ خود سے مخاطب ہوئ ۔
اس نے کلثوم کی طرف دیکھا' جس کے پاس ہی اس کا شیر خوار بچہ دنیا کی تلخیوں سے بے خبر کھیل میں مگن تھا ۔۔۔۔ کلثوم سانچے کی مدد سے اینٹیں تیار کرنے میں مصروف تھی ۔
"کیاسوچ رہی ہو تم؟" کلثوم نے اس کو سوچوں میں گم دیکھا تو مخاطب ہوئ۔۔۔
"سوچ رہی ہوں کہ ہم کب تک اس بھٹی میں جھلستے رہیں گے۔"
اس کی کرب میں ڈوبی آواز جیسے راستے میں ہی کہیں منجمند ہوگئ ۔۔۔ 
ٹھیکیدار نے گرج کر کہا جلدی کام کرو شام تک سب نے دو ہزار اینٹیں تیار کرنی ہیں' میں کام کرنے کے پیسے دیتا ہوں ' باتوں کے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
"شریفاں بی بی کے کندھوں پر اس کی ننھی بیٹی نے ہاتھ رکھ دیا ۔ "اماں دیکھو! میں نے گڑیا بنائ ہے۔"
اسنے بیٹی کے ہاتھ میں مٹی سے بنے پتلے کو دیکھا تو آنکھوں میں نمی آگئ ۔۔
وہ جھلستی ہوئ خوشیاں شدت سے محسوس کر سکتی تھی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں