"اماں ! اماں ! تو کتنی مٹی گوندھتی ہے ؟ کبھی اتنا آٹا گوندھ ہم سب پیٹ بھر کر روٹی تو کھائیں "
ننھی سکینہ اپنی مزدوری کرتی ماں کے کانوں میں جیسے سیسہ پگھلا کر ڈال رہی تھی۔ نسل ہا نسل سے بھٹوں پر کام کرتے خاندانوں کے المیے بھی نسلوں پرانے ہیں۔ ازلی بھوک اور ابدی استحصال جس کا ایک عام فہم نام غریبی ہے۔ نہ تن ڈھکنے کو کپڑا ، نہ پیٹ میں ڈالنے کو اناج۔
" تیرے منہ میں مٹی ہی نہ ڈال دوں روٹی کی جگہ ، کیوں ادھر دھوپ میں سڑ رہی ہے چل ادھر چھاؤں میں دفع ہو جا " زرینہ نے اپنی بے بسی کا اظہار دو بھرپور چانٹے اور ڈانٹ لگا کر کیا ۔
ماں کی ڈانٹ میں غصے کی بجائے ساری دنیا کی محرومی سمٹی ہوئی تھی لیکن روٹی کی منتظر سکینہ کو ایسی باریکیوں کا کیا احساس، اس نے جب سے آنکھ کھولی تھی اپنے ارد گرد ایک جیسا ہی سوگ اور ماحول دیکھا تھا۔ آج نہ جانے کیوں اس کو مٹی کا ڈھیر گوندھتی اماں کو دیکھ کر آٹا یاد آ گیا تھا۔
"زرینہ ! میں گھر جا رہی ہوں " بلقیس نے زرینہ کو آواز دی " چھوٹا ٹھیکیدار تمھیں شام کو بلا رہا ہے "
زرینہ کی آنکھوں میں چڑھتا خون بلقیس کے ہاتھوں میں پکڑے آٹے کے تھیلے کو دیکھ کر سرد پڑ گیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں