آج موسم بہت پیارا ہے ، اور سکول سے بھی چھٹی ہے ، ھمارے محلے کے پاس کوئی گراؤنڈ نہیں ہے ، اسی وجہ سے ہم گلی میں کرکٹ کھیلتے ہیں ، سارے محلے والے ہم سے تنگ ہیں ، کل ھمارے پاس بال نہیں تھی ، اس وجہ سے ہم کھیل نہیں رہے تھے ، امتیاز چاچو نے ہمکو اس طرح بیٹھے دیکھا تو پوچھا آج آپ لوگ کھیل کیوں نہیں رہے ؟؟ تو ہم نے کہا کہ ھمارے پاس بال نہیں ہے ، تو امتیاز چاچو نے ہم کو پیسے دے دیے اور ہم نے نئی بال لے لی ، امتیاز چاچو سب بچوں سے بہت پیار کرتے ہیں ، پورے محلے میں سے بس وہ ہی ہم کو کھیلنے پر نہیں ڈانٹتے ، کہتے ہیں اس دفع بلدیاتی الیکشن میں آپ کے لئے گراؤنڈ کی بات کروں گا ، پچھلے الیکشن میں بھی ھمارے محلے میں جلسہ ہوا تھا ، چوہدری صاحب نے سپیکر میں کہا تھا کہ ہم آپکے لئے ایک پارک بنائیں گے ، اور اس پارک میں ایک گراؤنڈ بھی ہوگا ، ہم بہت خوش ہووے تھے ، پاپا بھی ہم کو کھیلنے سے منع کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں گلی میں کھیلنے سے نقصان ہوتا ہے ، کسی کی لائٹ ٹوٹ جاتی ہے تو کسی کی کھڑکی میں گیند لگتی ہے ، گلی والے اتنے امیر نہیں ہیں کے وہ روز نقصان پرداشت کریں ، آج پھر میرے گھر کی کھڑکی ٹوٹ گئی ، پاپا نے ہم سے بال بھی چھین لی اور ھمارے کھیلنے پر بھی پابندی لگا دی ، ہم کو کوئی کھیلنے نہیں دیتا ، میں کھڑکی میں کھڑا گلی سے گزرتے ہووے امتیاز چاچو کو دیکھ رہا تھا ، وہ مجھ کو کھڑکی میں کھڑا دیکھ کر رک گئے ، انہوں نے ہاتھ میں بال پکڑی ہوئی تھی ،
،
،
،
،
مگر ہم نے کھیلنا چھوڑ دیا تھا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں