پیر، 25 نومبر، 2013

از: سید شاہ


یہ دسمبر کی بات ہے جب سخت سردیوں کا موسم شروع ہوچکا تھا اور مجھے لُنڈا بازار جانا تھا سردیوں کے لئے کچھ گرم کپڑے خریدنے تھے ( ظاہر ہے اتنی مہنگائی میں کسی شوپنگ مارکیٹ میں بُنینزا کے کپڑے خریدنے کے قابل تو نہیں تھا ویسے بھی ایک دو دفعہ چکر لگاچکا تھا توبہ کرکے ہی واپس چلا آیا اِس قدر مہنگے کوٹ اور بنیانوں کی قیمتیں سُن کر میری آنکھیں ہی باہر نکل آئیں تھیں ) ۔۔
آج میں کراچی کے علاقے سولجر بازار میں کھڑا کپڑوں کی خریداری کررہا تھا یہاں بھی پچھلے سال کے عوض اِس سال بہت مہنگائی تھی ۔
میں نے ایک مَفلر لیا ایک کوٹ اور کچھ بنیان لئے اور شام ہونے سے پہلے ہی گھر واپس لوٹ آیا 
صبح مجھے کام پہ جانا تھا لیکن آج صبح سے ہی بارش اپنے شور شرابے کے ساتھ برس رہی تھی جس کی وجہ سے ٹھنڈ میں مزید اضافہ ہو چلا تھا مجھے بارش میں بھیگنے کا بلکل شوق نہ تھا اسی بارش میں کئی دفعہ شدید بیماری کا سامنا کرنا پڑا تھا اس لئے اب میں بہت احتیاط کیا کرتا،
صبح کا منظر ایسا تھا گویا شام ہو چلی ہو
تھوڑی دیر یوں ہی گُم سُم کھڑا نجانے کیا سوچ رہا تھا کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی میں دروازے کی طرف بڑھا اور جاکر دروازہ کھول دیا
باہر ایک لڑکا ( تقریباً پندرہ سولہ سال کا ) کھڑا تھر تھر کانپتا ہوا مجھے حسرت بھری نگاہ سے دیکھ رہا تھا میں نے اس کا جائزہ لیا تو اس کے ہاتھ میں ایک کالی سی تھیلی تھی اور اس کے کپڑے گیلے ہوچکے تھے بیچارہ بارش میں بری طرح بھیگ چکا تھا
میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا اور پھر پوچھا کون ہو تم کہاں سے آئے ہو اور اسوقت یہاں کیا کررہے ہو ؟

وہ کہنے لگا ( کانپتے ہوئے ) ب۔بب۔بھائی یہ سردیوں کے گرم کپڑے ہیں اس نے تھیلی کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔۔ ،،، !!
میں یہ بیچنے آیا تھا ان گلی اور محلوں میں صبح سویرے چکر لگانے آتا ہوں لیکن آج صبح صبح ہی بارش برس گئی ۔۔
میں نے اُس کے ہاتھ سے تھیلا لیا اور اُسے اندر آنے کا کہا وہ اندر صحن میں آیا تو میں اُس کے تھیلے کی تلاشی لینے لگا اُس تھیلے میں واقعی کچھ گرم کپڑے تھے لیکن بچّوں کے، میں نے پوچھا یہ کوئی لیتا بھی ہے ؟
اُس نے کہا ہاں بھائی لیتے ہیں میں اس محلے میں اکثر آتا رہتا ہوں اور شہر کے مختلف گلیوں، محلّوں کے چکر لگاتا ہوں
میں نے پھر پوچھا ،،،! کتنی دیہاڑی لگ جاتی ہے اُس نے کہا کبھی سو اور کبھی ڈیڑھ سو مجھے کوئی حیرانگی نہ ہوئی کیونکہ یہ عام بات تھی، پھر پوچھا اتنے کم پیسے اور وہ بھی کبھی کبھی ۔ اچھا یہ بتاؤ گھر میں کون ہے کیا کوئی اور کمانے والا ہے ،،،،،!! وہ لڑکا کہنے لگا ہاں میرا باپ بھی ہے وہ مونگ پھلی بیچتا ہے رات کو، وہ دن بھر گھر میں رہتا ہے اور رات کو کام پہ نکل جاتا ہے گھر میں ایک ماں ہے اور مجھ سے چھوٹے دو بھائی اور ایک سب سے چھوٹی بہن ہے ۔۔۔۔۔۔ ،،،،،
پھر میرے ذہن میں اچانک خیال آیا تو میں نے پوچھا کہ تم سردیوں کے گرم کپڑے بیچ رہے ہو اور خود تم نے کچھ نہیں پہنا ؟ وہ کہنے لگا اگر میں پہنوں گا تو میرے چھوٹے بہن بھائی نہیں پہن سکیں گے مجھے اپنی فکر نہیں مجھے صرف گھر والوں کی فکر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک وہ اُٹھا اور کہنے لگا بارش رُک گئی میں نے باہر کی طرف دیکھا تو واقعی بارش رُک چکی تھی وہ میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنا تھیلا اُٹھا کر جیسے ہی اُٹھا میں نے کہا ایک منٹ کیلئے رکو، اور جاکر اپنا مفلر اُٹھایا اور اُسے دے دیا اُس کے مسلسل انکار کے باوجود میں نے زبردستی اُسے مفلر پہنایا تو وہ بیچارگی کی نظروں سے مجھے تکنے لگا اور کچھ دعائیں دیتا ہوا گھر سے باہر رُخصت ہو گیا ۔
اُس کے جانے کے بعد میں بہت دیر تک اُس کے بارے میں سوچتا رہا۔
جو لوگ دوسروں کیلئے جیتے ہیں اُن کیلئے کون جیتا ہے ؟؟ ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں