فیض آباد ایک چھوٹا شہر ہے .یہاں ریلوے کا جنکشن اور کپڑے کی دو عدد فیکٹری بھی ہے زیادہ تر لوگ ریلوے یا فیکٹری میں کام کرتےتھے.
اسلم فیض آباد کے ایک ہائی اسکول میں آٹھویں کلاس کا طالبعلم تھا. محلے کے دو بچے ناصر اور عمران اسکے کلاس فیلو تھے ان میں خوب دوستی تھی. اسلم کے بڑے بھائی جو کالج میں تھے جاسوسی ناولوں کے شوقین تھے ان کے ساتھ ساتھ اسلم نے بھی چند ایک کتابیں پڑھیں تو اسے بھی چسکا لگ گیا. اسلم سے کتاب لیکر ناصر اور عمران بھی پڑھنے لگے اور جلد ہی ابن صفی کے کردار علی عمران اور کرنل فریدی ان میں حلول کر گیا. کتابیں پڑھنے کے بعد یہ آپس میں اس پر بحث بھی کر تے. جاسوسوں والے سٹائل میں بات کر نے کی کوشش کرتے اور وہ کسی ایسے واقع کی تلاش میں تھے جس سے انھیں اپنے جوھر دکھانے کا موقع ملتا. عمران تو نام سے ہی علی عمران تھا ناصر نے ایک محدث عدسہ بھی خرید رکھا تھا جس سے فنگر پرنٹس یا کوئی اور نشان دیکھنے کی کوشش کرتا اور یوں باتیں کرتاجیسے شرلاک ہومز کی روح اس میں آگئی ہےاور وہ ڈاکٹر واٹسن سے مصروف گفتگو ہے.
ایک دن اسلم کو اپنے بڑے بھائی سے پتہ چلا کے کوئی جانور یا انسان قبرستان جاکر لاش کو نوچا کرتا ہے اور کفن چراتا ہے. کچھ لوگوں نے ریچھہ نما ایک جانور بھی دیکھا تھا جو قبر کھود رہا تھا اور انکو دیکھتے ہی بھاگ کر غائب ہو گیا. لوگوں میں اسپر سخت تشویش تھی کچھ کو گورکن پر بھی شک تھا کے یہ اسکی حرکت ہے.
اسلم سے ہوتی ہوئی یہ خبر ناصر اور عمران کو ملی اور انکی جاسوسی کی رگ پھڑک اٹھی وہ سوچنے لگے کے کسی ترکیب سے اس جانور نما انسان کو پکڑیں. کسی سے مشورہ کرناخطرناک تھا کیونکہ بات پھر انکے گھر والوں تک پہنچ جاتی اور پٹائی نہیں تو ڈانٹ ڈپٹ ضرور ہوتی. تینوں نے ملکر فیصلہ کیا کے جس دن کسی کی فوتگی ہو گی وہ اس رات فلم دیکھنے کے بہانے قبرستان جائیں گے اور چھپ کر دیکھیں گے کے کیا کرنا ہے. اسکول سے آنے کے بعد انہوں نے قبرستان کا ایک چکر لگایا اور کوئی مناسب جگہ تلاش کی. ایک طرف ایک شکستہ مکان تھا جس میں کبھی ایک فقیر رہتا تھا اب وہ خالی تھا کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹے ہوۓ تھے اورکوئی بچہ یہاں چھپ کر قبرستان سے آنے والے راستے کی نگرانی کر سکتا تھا. اطراف میں کافی درخت اور جھاڑیاں بھی تھیں. ابھی قبضہ گروپ نے ادھر کا رخ نہیں کیا تھا اسلئے گھر اور درخت وغیرہ بچے ہوۓ تھے.
محلے کا ایک بچہ یاسر جو کافی نڈر تھا اور چھٹی کلاس میں پڑھتا تھا اسے بھی انہوں نے ساتھ ملالیا تاکہ وہ کھڑکی سے نگرانی کرے اور اگر کوئی جانور یا انسان نظر آے تو پوائنٹر لائٹ اس پر ڈالے باقی کام ان تینوں نے اپنے ذمہ لیا. ناصر کے پاس ہتھیار کے نام پر ایک غلیل تھا اور اسکا نشانہ بھی اچھا تھا باقی دونوں نے فیصلہ کیا کے وہ اپنے پاس ڈنڈے رکھیں گے. اب وہ انتظار کر رہے تھے.
چند دنوں کے بعد انھیں پتہ چلا کے ایک بوڑھے شخص کا انتقال ہو گیا ہے وہ بھی تدفین میں شامل ہو گۓ اور ہر چیز کا بغور معائینہ کیا. دفن والی جگہ اس شکشتہ مکان سے نزدیک تھا اور انکا خیال تھا کے وہ یہ ہی راستہ استعمال کرے گا. خیر حسب منصوبہ گھر والوں کو کہا کے رات والی فلم دیکھنی ہے چونکہ شہر میں امن و سکون تھا اس لئے گھر والوں نے اجازت دے دی اور وہ یاسر کو لیکر قبرستان پہنچ گۓ. اسلم نے یاسر کو چپس اور ٹافی دی اور کہا کے اس کھڑکی کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو جاؤ اور کسی کو آتا دیکھو تو اس پر پوائنٹر لائٹ ڈالنا اسکو پتا نہیں چلے گا کے کون یہ لائٹ ڈال رہا ہے اور جب ہم اسے گھیر لیں تو ٹارچ روشن کر دینا. اسے چھوڑ کر اسلم خود اس قبر کے نزدیک چلا گیا اور چھپ کر بیٹھ گیا یہ اس لئے کے وہ جانور کسی اور طرف جائے تو یہ باقی دونوں کو خبر کر سکے. ناصر اور عمران مکان کے نزدیک درختوں کے پاس چھپ گئے اور اب پھر انتظار.
رات دس بجے کے قریب انھیں کچھ آوازیں آئین لیکن دوری کی وجہ کر کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا. تاروں کی مدھم روشنی میں انھیں ایک شبیہ دکھائی دی جو ریچھہ جیسا لنگڑا کر چل رہا تھا. اسلم اسکے پیچھے تھا اور اس انتظار میں تھا کے یہ اس مکان کے نزدیک جائے جہاں سب موجود ہیں. جب وہ شے مکان کے نزدیک آئ تو یاسر نے اسپر لائٹ ڈالی یہ دیکھتے ہی اسلم نے غلیل سے اسکے سر کا نشانہ لیا. اس چوٹ سے وہ پیچھے مڑا تو ناصر اور عمران نے اسکے پیر پر ڈنڈے مارے جس سے وہ گر گیا. ڈنڈوں کی بارش سے بیحال وہ اٹھ نہ سکا. لڑکوں کے شور سے گورکن اور کچھ لوگ آگۓ اور سب نے اسے پکڑ لیا. ایک شخص نے اسکے سر کو کھینچا تو کھال باہر آگیا وہ انکے علاقہ کا ایک چرسی تھا جو کفن چراکر بیچتا تھا اور اپنا نشہ پورا کر تا تھا. لوگوں کے پوچھنے پر اس نے بتایا کے وہ لاش کو کچھ نہیں کرتا تھا البتہ کبھی کبھی کپڑا کھینچنے پر لاش باہر آجاتی تھی اور وہ اسے وہیں چھوڑ جاتا تھا ہو سکتا ہے کوئی جانور گوشت نوچ لیتا ہو.
لوگوں نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا اور بچوں کو بہت شاباش ملی کے انکی وجہ کر کفن چور پکڑا گیا.
دریا خان
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں