'''' کہیں ہے تو کہیں نہیں ہے ''''
بات امیر غریب کی نہیں ہے ۔
کوئی اپنی مرضی سے امیر اور نہ ہی غریب ہوتا ہے ۔ بات خوشی اور دُکھ کی ہے ' جوامیروں پر بھی اُترتا ہے اور غریبوں پر بھی ۔
عورت کبھی بھی محنت سے دل نہیں چُراتی' بس دو بول محبت کے اور وہ ہر مصیبت سے لڑ جاتی ہے ۔ یہ عورت غمگین اور افسردہ اس لیے نہیں کہ یہ غریب ہے ۔ اور اسے محنت کرنی پڑ رہی ہے ۔ یہ دُکھی اس لیے ہے کہ کوئی محبت سے بولنے والا نہیں ہے۔ کوئی اس کی محنت کو سراہنے والا نہیں ہے ۔صبرو شکر کا دامن پکڑے بس اپنے بچوں کے لیے محنت کرتی جا رہی ہے۔ اسکے ساتھ دوسری عورت غور کریں کیسے جوش و جزبے سے کام کر رہی ہے ۔ بات صرف اتنی ہے ۔اسکو ہر روزاپنی محنت پر ستائشی الفاظ مل جاتے ہیں ۔ اور وہ اپنی تھکن بھول کر کتنے جوش سے دوبارہ محنت کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ '''' بس یہ تصویر اگر کسی چیز کا آئینہ ھے ۔ تو وہ محبت کا ہے ۔ ''''
'''' کہیں ہے تو کہیں نہیں ہے ''''

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں