ہفتہ، 2 نومبر، 2013

ہم رائٹر بنے" تحریر:ایس،زیڈ،راجہ


ہم رائٹر بنے"
تحریر:ایس،زیڈ،راجہ

ہوا یوں کے بچپن میں ایک دن ہمیں یہ ادراک ہوا کے ہم بھی لکھ سکتے ہیں -ہماری نظر میں رائیٹر اور شاعر ہونے کے لئے بالوں کا الجھا ہوا ھونا ،اور موٹا سا چشمہ پہننا بیحد ضروری تھا ورنہ کامیاب رائیٹر نہیں بنا جا سکتا -
ہماری بہنا رانی اور بھیا راجہ ہماری ذہانت پر پھولے نہیں سما رہے تھے ہم سب نے پلاننگ شروع کردی-
سب سے مشکل کام تھا چشمہ ڈھونڈنا ،کہاں سے لایا جائے ہم سب سر جوڑ کے بیٹھ گیے .اچانک ہماری نظر سامنے سے آتے بابا جی پر پڑی جو کے مسجد سے نماز پڑھ کے نکل رہے تھے ہمارے پڑوس میں رہنے والے ہمارے نانو جی کے دوست وووووو ہم نے فلک شگاف نعرہ بلند کیا مگر مشکل تو یہ تھی که چشمہ حاصل کیسے کیا جائے ؟ ہم پھر سر جوڑ کے بیٹھ گیے -
کافی غور و فکر کے بعد اک خیال بجلی کی سی تیزی سے دماغ میں کوندا گرمیوں کے دن ہیں لوگ دوپہر کو سوتے ہیں ہم اس وقت بابا جی پر کڑی نظر رکھیں گے جوں ہی وہ خواب_ خرگوش کے مزے لینے لگے گے ہم ان کے چشمے کو کھسکا لیں گے -دوسرے دن ہم ان کے گھر موجود تھے -شفقت بھرے لهجے میںپیار ہی پیار تھا -ان کی اس محبت کو دیکھ کر ھم شرمسار ھو گیےہمارا ننھا سا دل کانپ گیا بہن بھائی بھی ان کے پیار سے متاثر نظر آ رہے تھے ہم نے لمحوں میں فیصلہ کر لیا کے ہم بابا جی کو سچ بتا دیں گیے کے ہم کس نیت سے آئے تھے -
ہم نے سچ سچ انکو سب بتا دیا جسے سن کے وہ مسکرائے اور اسی وقت چشمہ ہمارے حوالے کر دیا کے جاؤ بیٹا اپنا کام کر لو میں سونے لگا ہوں -
ہم خوشی خوشی وہاں سے روانہ ہوے اور گھر آ کے اب اگلا قدم جو ہم نے اٹھانا وہ تھا بالوں کو الجھانا جنہیں ہماری بہنا رانی اور بھیا راجہ نے کمال مہارت سے چڑیا کا گھونسله بنا ڈالا- اور لگے ہنسنے -ہماری نظر آئینے پر پڑی تو ایک زور کی چیخ گلے سے برآمد ہوئ جسے ہمارے بھائی نے اپنے مضبوط ہاتھوں سے روک لیا اگر مما جانی تک آواز پهنچ گیی تو زندگی کا آخری دن سمجھو-
خیر ہم نے لکھنا کیا سٹارٹ کیا آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہم ہر روز بابا جی سے چشمہ لاتے اور لکھتے جاتے نہ ہمیں کھانے کا ہوش نہ پینے کا مما الگ پریشان ،مگر ہم بہت خوش تھے کے ادب تخلیق ہو رہا ہے ، کچھ شاعری کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا بھائی تو با ہر چلا جاتا مگر ‌مشق_ستم ہماری بہنا رانی بنتی اسے جو بھی لکھتے سناتے حرف با حرف -
کچھ دن تو یہ معمول چلتا رہا پھر آہستہ آہستہ گھر میں سب کو ہماری صلاحیتوں کا علم ہونا شروع ہو گیا ،جو بھی چھپتا بڑی توجہ سے پڑھا جاتا بہن بھائی الگ رعب جماتے اپنے دوستوں پر -سب کچھ ٹھیک سے چلتا اگر ہماری بہنا رانی کی طبیعت خراب نہ ہوتی-کیوںکه اب ہم جوں ہی اسے سنانے کو منہ کھولتے محترمہ کی طبیعت خراب ہونے لگتی رنگ پیلا زرد ہو جاتا تب مما جانی ڈانٹ کے پوچھتیں سچ بتاؤ افسانہ سنایا یا غزل ہم بھڑک اٹھتے کے ہماری کسی کو قدر ہی نہیں -
ہماری بہنا جانی ہمیں زہر لگنے لگیں )تھوڑی دیر کے لئے ( ہمیں گمان ہونے لگا کے ہماری قابلیت سے جلتی ہیں - حالانکہ خود بھی بہت اچھا لکھتی تھی -اپنوں کا خون سفید ہونے کا یقین پہلی بار آیا تھا سچ کہا کسی نے گھر کی دال مرغی برابر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں