پیر، 25 نومبر، 2013

نظم : از: خدیجتہ الکبری


" شیشے پہ عکس امیدوں کا "

کھڑکی کے شیشے توڑ دینے سے 
کھڑکی اپنی جان سے نہیں جاتی 
یہ شیشہ بھی اک رکاوٹ ہے 
امید کی کھڑکی سے 
دیکھنے والے کے لئے 
ابھرتے ہوئے سورج کو 
چاہے شیشے ٹوٹیں یا ان پہ خراشیں پڑیں 
ان سے دیکھنے والے چہرے 
جنگ میں لٹے ہوئے چہرے نہیں ہوتے 
ہاں کھڑکیوں کے شیشے توڑنے والے 
امیدوں کے باغی لگتے ہیں

بقلم : خدیجتہ الکبریٰ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں