اماں یہ کیا بنا رہی ہو؟
یہ اینٹ ہے میرا بچہ
یہ کیوں بناتے ہیں
اس سے گھر بناتے ہیں
پر ہمارے گھر میں تو یہ اینٹیں نہیں
ارے پگلی یہ ہمارے کچے گھروں میں نہیں۔۔۔بڑے لوگوں کے پکے گھروں میں لگتی ہے
پکا گھر؟
ہاں پکا گھر۔
یہ پکا گھر کیا ہوتا ہے ماں؟
میری دھی۔۔پکا گھر بڑا مضبوط ہوتا ہے۔۔۔کیا آندھی کیا طوفان کیا بارش کسی کا بھی اثر نہیں لیتا ۔،،،سمجھی میری دھی۔۔۔
ہمممم
پر ان کچی اینٹوں سے ایسا پکا گھر کیسے بن جاتا ہے
میری دھی یہ اکیلی اینٹیں تھوڑی نا پکا گھر بناتی ہیں،،،
پھر۔۔۔۔
ماں چپ ہو گئی۔۔۔ہاتھ کام کرتے کرتے رک گئے۔۔کہیں دور خلاؤں میں کھوئے کھوئے بولی
میری دھی ان اینٹوں میں،،،کسی کی غریبی ملی ہوتی ہے۔۔۔کسی کی مجبوری کا گارا شامل ہوتا ہے،،،
کسی بلکتے بچے کو چند قطرے دودھ کا دینے کیلئے ایک ماں کی تڑپ شامل ہوتی ہے،،،،کسی کی ننگی کمر پر چلچلاتی دھوپ میں ڈھوئی جاتی ہیں
کسی کچے گھر کی نیچے بارش میں ٹپکٹے پانی کو حسرت سے دیکھتے ہوئے اسے ایک نا ایک دن پکا کرنے کی خواہش کا لہو شامل ہوتا ہے،،،میری دھی
ان اینٹوں میں کسی کی جوانی۔۔۔کیس عورت کی ممتا۔۔۔کسی بچے کی ٹوٹی خواشہیں شامل ہو کر اسے اتنا مضبوط بناتی ہیں کہ،،،
کہ جب یہ ایک ساتھ جڑ کر دیوار بن کر تن کر کھڑی ہوتی ہیں تو بڑے بڑے طوفان سہہ لیتی ہیں،،،کیا دھوپ کیا چھائوں کیا بارش سب برداشت کر لیتئ ہیں۔۔پر اپنے چھائوں میں
آنے والوں کو سکھ ہی سکھ دیتی ہیں۔۔۔
ماں کی آنکھوں میں نمی سی تھی۔۔۔
میری دھی
ان اینٹوں میں گارا نہیں۔۔۔میں اور تو شامل ہیں۔۔۔زندہ انسان۔۔۔جبھی تو یہ اتنی مضبوط ہیں
وہ کہہ رہی تھی پر اس کی معصوم بیٹی کو یہ باتیں شائد سمجھ نہیں آرہی تھیں۔۔۔
وہ بس کبھی ماں کی چہرے پر امڈنے والوں آنسو کو دیکھ رہی تھی یا گیلی سوکھی پڑتی اینٹ کو
از عین

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں