ہفتہ، 2 نومبر، 2013

کچی اینٹوں سے خواب : از: ثروت گل


ٹھیکدار سے پیسے ملتے ھی وه دونوں میاں بیوی پھجل دین کی گدھا گاڑی پر شھر روانه ھو گئے دونوں میاں بیوی کے چهرے خوشی سے چمک رھے تھے کیونکه آج ان کی جیبوں میں پیسے تھے-صادق نے اپنی بیوی رجو کے نمکین چهرے پر نظر ڈالی جو کسی گہری سوچ میں تھی وه جانتا تھا وه کیا سوچ رھی وه تصور میں ھی اس کے کانوں میں چاندی کی بالیاں جھولتی ھوئی دیکھا رھا تھا جس کے لیے وه دو مهینوں سے پیسے آکٹھے کررھی تھی اور آج شھر جاتے ھوۓ بھت پرجوش تھی چاندی کی بالیاں اس کا وه خواب تھی جو وه شادی کے دن سے ھی دیکھ رھی تھی- اور اب اس خواب کے حقیقت بنے میں کچھ ھی وقت تھا-اور یه بات اسے بھی خوشی سے ھمکنارکر رھی تھی -اسے بھی گھر سے نکلتے ھوۓ رجو نے خاص تاکید کی تھی که اپنے لیے ایک گرم کپڑے کا سوٹ خرید لے کیونکه سردی سر پر تھی اور شام کو بھٹے پر انٹیں بناتے ھوۓ وه سردی سے کانپنے لگتا تھا-کچھ عرصے سےاسے دمے کا مرض بھی لاحق ھو چکا تھا جو کے سردی کے دنوں شدت اختیار کر جاتا-انهی سوچوں میں مگن شھر آ گیا-وه رجو کو سنار کی دکان کے آگے چھوڑ کر خود اس دکان کی طرف آ گیا جہاں سے وه کپڑے خریدتا تھا جسے ھی اس نے مردانا کپڑے کے تھان نکلواۓ تو اس کے سامنے کل کا وه منظر گھوم گیا جب اس کے ساتھی مزدور رمیش کا بٹیا لٹو چیخ رھا تھا اور رمیش اسے ڈانٹ رھا تھا-پوچھنے پر رمیش نے غصے سے اسے بتایا لاٹ صاب کا بچه دیوالی پر نئے کپڑے ،جوتوں اور ساتھ ایک گھڑی کی فرمائش کر رھا ھے صادق تو تو جانتا ھی ھے پچھلے دنوں اس کی بیماری پر کتنا پیسا اٹھ چکا ھے جو ٹھیکدار سے ادھار لیا تھا اور اب وه قرض اتارنا بھی ھے دیوالی پر مٹھائی کے لیۓ بھی پیسے چاھیۓ اب تو ھی بتا میں کیسے اس کی اس فرمائش کو پورا کروں لاکھ سمجھاتا ھوں اونچے خواب نه دیکھا کر-تو تو جانتا ھے صادق ھمارے خواب بھی ان کچی انٹیوں کی طرح ھوتے ھیں جو بھٹی میں جانے سے پهلے ھی ٹوٹ جاتے ھیں ھم نے کبھی ان کو پخته کرنے کی ضد نھیں کی- ھم تو وه نربھاگی ھیں جو ساری عمر انٹیں بناتے گزار دیتے ھیں مگر رھتے تنکوں کی جھونپڑیوں میں ھیں جو ذرا سی بوندا باندی میں ٹپکنے لگتی ھیں-اس کی نظروں میں رمیش کے بہتی ناک والے 6 ساله بیٹے کی محرومی ڈورنے لگی اور اس نے اپنے کپڑے چھوڑ کر رمیش کے بیٹے کے لیے جوڑا،جوتی اور ایک سستی سی گھڑی خرید لی- رجو کے لیے برفی اور پکوڑے لے کر وه سنار کی دکان پر پہنچا تو رجو پھجل دین کی گدھا گاڑی پر بیٹھی بے تابی سے اس کا انتظار کر رھی تھی -اس کا خوشی سے چمکتا چہره دیکھر وه نہال ھو گیا یقینا رجو نے بالیاں خرید لی ھوں گی-جو اس نے پہنی نھیں تھی شاید اس لیے که بالیاں وه صادق کے ھاتوں سے پہنا چاھتی ھو گی وه تو روٹی کا پہلا نوالا بھی صادق کے ھاتھ سے کھاتی تھی دونوں میاں بیوی میں بھت پیار تھا شادی کو چار سال ھو رھے تھے اور بھی تک ان کے آنگن میں کوئی پھول نھیں کھلا تھا مگر اس کی رجو سے محبت کم نھیں ھوئی -گھر پهنچ کر پکوڑوں سے روٹی کھاتے ھوۓ جب اس نے رجو کو اپنی خریداری کے بارے میں بتایا تو خوشی سے رجو کی آنکھوں میں آنسوؤں آ گئے اور وه بھاگ کر اپنی خریداری والی تھیلی اٹھا لائی اور اسے دکھانے لگی رجو نے اپنے پیسوں سے ایک صادق کے لیۓ گرم جوڑا اور ایک رمیش کی بیوی کے لیے رشمیی چنی لی تھی-مجھے پتا تھا صادق تم اپنے لیے جوڑا نھیں خریدو گے لٹو کی فرمائش تم ضرور پوری کروگے دیوالی کا موقعه ھے یه چیزیں ان کی خوشیاں دو بالا کریں دینگی -میں بالیاں پھر خرید لوں گی-البته تمھیں گرم کپڑوں کی ضرورت تھی کھانا کھا لو پھر ھم رمیش کے گھر جائیں گے اور یه برفی بھی اس کے بچوں کے لیے رکھ لیتے ھیں یه کهه کر رجو نے برفی بھی رشمیی چنی کے ساتھ رکھ دی اور دھیرے دھیرے گنگنانے لگی-

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں