پیر، 25 نومبر، 2013

از: فیصل ریاض


6 سالہ ننھی ثمینہ آنکھوں میں کئی سوال لیے حیرت سے کھڑکی کے ٹوٹ جانے سے بننے والے نئے سوراخوں میں سے باہر 6 دیکھ رہی تھی ، ابھی ایک گھنٹہ پہلے تک یہ کھڑکی سلامت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، ثمینہ کو یہاں پر کھڑے ہو کر باہر کے سر سبز کھیت میں اپنی بکریوں کے چھوٹے چھوٹے میمنوں کو اٹھکیلیاں کرتے دیکھنا بہت پسند تھا۔ یہ کھڑکی بھی ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی لگی تھی، کچھ مہینے پہلے تک انکا گھر بہت چھوٹا تھا صرف دو ہی تو کمرے تھے اور بارش کے دنوں میں کتنی مصیبت ہوتی تھی سارا چھت ٹپکنے لگتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اب پورے محلے میں انکا گھر سب سے شاندار تھا اب اسکی دو منزلیں تھی اور کمرے بھی پکے ۔ ثمینہ کے پاس کھلونے بھی اپنی سب سہیلیوں سے زیادہ تھے۔ اس وقت بھی اسکے ہاتھ میں وہ خوبصورت گڑیا موجود تھی جو اسکے بابا آج ہی اسکے لیے لیکر آئے تھے۔ 

آج وہ کتنی خوش تھی اس کے بابا اتنے مہینوں کے بعد جو گھر آئے تھے ، ثمینہ اپنی نئی گڑیا کے سنہرے بالوں میں کنگی کرنے میں مگن تھی ۔ اسکے بابا اور امی برآمدے میں بیٹھے کسی بات پر شاید بحث کر رہے تھے انکی آواز کبھی کبھی بہت تیز اور سخت ہو جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے میں ہی اچانک باہر سے کسی کے سپیکر میں بولنے کی آواز آئی ۔۔۔۔۔ کوئی اسکے بابا کا نام لیکر باہر آنے کے لیے کہ رہا تھا ۔ اسنے دیکھا تھا اسکا بابا اسی وقت اپنی بڑی سی بندوق جسکو وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا لیکر جلدی سے کھڑکی کی طرف لپکا تھا ۔۔۔۔ اسکے کچھی دیر کے بعد اسنے دل دہلا دینے والے خوفناک دھماکے سنے تھے۔ اسکی امی چیخ کر اسکی طرف بڑھی تھی اور اسکو اپنے وجود کے نیچے چھپا کر ایک طرف کونے میں دبک گئی تھی بلکل ویسے ہی جیسے اسکی مرغی بلی کو دیکھ کر اپنے چوزوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا لیا کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا ۔ دھماکوں کی آوازیں شدید ہو چکی تھی ۔ اسکے گھر کی کھڑکیاں ٹوٹ رہی تھی دیوارں میں چھید ہو رہے تھے ، اسکا خوبصورت گھر کھنڈر میں بدل رہا تھا ۔ پھر یہ شور تھم گیا اچانک ہر طرف سناٹا چھا گیا اسے ماں کی ہلکی ہلکی کراہیں سنائی دے رہی تھی اور کوئی سیال چیز اسکے کپڑوں کو بھگونے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔ پھر کچھ بھاری بوٹوں کی آواز اسکے گھر کے اندر ادھر سے اْدھر جاتی سنائی دینے لگی ۔ اسکی ماں کا بوجھ اسکے اوپر سے ہٹنے لگا ، لیکن ماں خود کیوں بول نہیں رہی تھی اور نہ ہی حرکت کر رہی تھی، اسنے دیکھا اسکی ماں کو دو فوجی اٹھا کر ایک طرف لٹا رہے تھے اس کی ماں کے کاندھے سے خون نکل رہا تھا اور اس کے بابا خون میں لت پت تھے انکی آنکھیں بھی بند تھیں پھر اسنے دیکھا فوجی اسکے بابا کو اٹھا کے لے جا رہے تھے۔۔۔۔۔ اسنے سنا تھا فوجی کہہ رہے تھے " آخر ہم نے اس خطرناک دہشت گرد کو مار گرایا " 

ثمینہ دوڑ کر کھڑکی کے پاس گئی اور اس میں بننے والے نئے سوراخوں میں سے باہر فوجیوں کی گاڑی کو دیکھنے لگی جس میں اسکے بابا کو جانے کہاں لیکر جا رہے تھے ۔۔۔۔۔ اسکے کمسن ذہن میں بہت سی باتیں ، بہت سے سوال گڈ مڈ ہو رہے تھے اور دو آنسو اسکی پلکوں سے بہہ کر گالوں میں جذب ہونے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

از فیصل ریاض

1 تبصرہ:

  1. ماشااللہ فیصل ..... امیدوں پر پورا اترے... بہت اچھا افسانہ....

    جواب دیںحذف کریں