پیر، 25 نومبر، 2013

از: جاوید اقبال



حسرتیں جھانک رہی ہیں آنکھوں سے،
کانچ ٹوٹ گیا ہے کھڑکی کا،
کیسے گزریں گی یخ بستہ راتیں،
سوچ میں گم ہے غریب کا بیٹا

1 تبصرہ: